خطبات محمود (جلد 6) — Page 163
۱۶۳ لازمی اور ضروری ہے۔ اس میں شک نہیں کہ بہت سے لوگوں نے احمدی ہو کر بڑی بڑی اصلاحیں کی ہیں سیسے وہ چور تھے۔ مرتشی تھے۔ جھوٹ بولتے تھے نمازیں نہیں پڑھتے تھے روزے نہیں رکھتے تھے۔ حج یہ نہیں کرتے تھے۔ زکوۃ نہیں دیتے تھے اور اب شریعت کے ان حکموں پر عمل کرتے ہیں۔ مگر اس کھوں پر زمانہ میں جو عظیم الشان کام اسلام کی ترقی کا تھا۔ وہ نہیں کرتے۔ ایسے لوگوں کے نفس میں اصلاح اور ذات میں صفائی تو ضرور پیدا ہوگئی ہے مگر وہ ان فاتحین میں شامل نہیں ہو سکتے جن کے سر پر قیامت کے دن اس بات کا سہرا ہو گا کہ اُنھوں نے دنیا میں شیطان کا مقابلہ کر کے فتح حاصل کی تھی۔ ایسے لوگ ان لوگوں کی مانند ہونگے۔ جو فاتح فوج کے پیچھے چھوٹے موٹے کام کرنے والے ہوتے ہیں۔ اور وہ ان میں شامل نہیں ہونگے جن کے متعلق قیامت کے دن اگلی پچھلی نسلوں میں یہ اعلان کیا جانے گا کہ یہ ہیں وہ بہادر جنہوں نے شیطان کا مقابلہ کر کے اسے شکست فاش دی تھی اور اسلام کی صداقت کو دنیا پر ظاہر کیا تھا۔ یہ وہی لوگ ہونگے جو عمل صالح کرینگے اور ان ذرائع پر عمل پیرا ہونگے جون نے جو خدا نے اس زمانہ میں کامیابی کے لیے مقرر فرماتے ہیں۔ پس میں آپ لوگوں کو متوجہ کرتا ہوں کہ آپ غور کریں کہ جو کام ہم کرتے ہیں۔ وہ ان ذرائع کے مطابق ہے یا نہیں جو خدا نے ہماری کامیابی کے لیے مقرر کئے ہیں۔ اس کے لیے سب سے پہلے یہ دیکھنا چاہتے کہ ہمارا کام کیا ہے نفس کی اصلاح کے لیے ان احکام پر عمل کرنا ضروری ہے کہ جن سے اعلیٰ اخلاق پیدا ہوتے ہیں۔ لیکن میں اس وقت ان فرائض کا ذکر نہیں کرنا چاہتا، جن کے بغیر کوئی مومن ہی نہیں ہو سکتا، بلکہ ان کا ذکر کرنا چاہتا ہوں۔ جو مومنوں کے لیے ضروری ہیں ۔ ان سے میرا سوال یہ ہے کہ جس فوج میں وہ داخل ہیں۔ اس کا کام کر رہے ہیں یا نہیں اور یہ تو میں بتا چکا ہوں کہ اس فوج کا کام شیطان کے حملے کا دفعیہ اور اسلام کا جھنڈا گاڑنا ہے۔ اس زمانہ میں چونکہ اسلام پر حملہ دلائل کے ساتھ ہو رہا ہے۔ اسلام میں نقص پیدا کرتے جا رہے ہیں۔ اسلام پر اعتراض اور شکوک پیش ہو رہے ہیں۔ اس لیے اس وقت اس کا دفعیہ قلم اور زبان سے ہی ہو سکتا ہے جس کے لیے بعض باتیں ضروری ہیں۔ مثلاً جو لوگ علم استعمال کرتے ہیں۔ ان کے لکھے ہوئے کو لوگوں تک پہنچانے کے لیے روپیہ کی ضرورت ہے ۔ اس لیے مال خرچ کرنا چاہتے پھر زبان اُس وقت تک چلاتی نہیں جا سکتی۔ جب تک دشمن کے حالات سے آگ آگاہی نہ ہو۔ اس لیے ضروری ہے کہ دشمن کے اعتراضات سے واقفیت حاصل کی جاتے اس کے بعد وقت خرچ کر کے قلم اور زبان سے خدمت اسلام ہو سکتی ہے۔ تو اس کام کے لیے مال قربان کرنے کی ضرورت ہے۔ وقت قربان