خطبات محمود (جلد 6) — Page 152
۱۵۲ نہیں کر سکتی ۔ اس لیے ایسی تجویز کی ضرورت ہے کہ خرچ بھی زیادہ نہ ہوا اور بچوں کی نگہداشت بھی کافی ہو سکے جس سے وہ آوارہ نہ ہوں میرے نزدیک وہ بچے جو ابھی چھوٹے ہیں۔ ان کو بعض لوگوں کے سپرد کیا جا سکتا ہے۔ کہ وہ مہینہ یا پندرہویں دن ان کی تعلیمی و اخلاقی حالت کی رپورٹ کیا کریں ۔ اور علاوہ ان کی رپورٹ کے اور ذرائع سے بھی ان بچوں کی حالت کا علم حاصل کیا جا یا کمر سے مگر اس میں ایک اور بات بھی ہے کہ سارے گھرانے ایسے نہیں جو ایک ایک بچہ کو سنبھال سکیں میرے نزدیک ایک لوکل ذریعہ تیموں کی پرورش کا ہے اور اسکو زیادہ وسیع اور مضبوط کیا جا سکتا ہے۔ اور دہ آٹا فنڈ ہے ۔ اس طرح پر کہ سیمی کے لیے گھروں میں آٹا بھجوا دیا جایا کرے ۔ پہلے بعض کو خرچ دیا جاتا ہے لیکن وہ خرچ پورا نہیں ہوتا ہپیں اس طرح ان میں آنا جمعہو کر تقسیم ہو جائے میں جانتا ہوں ک بعض کاموں میں بہت دیر ہو جاتی ہے۔ لیکن اس کام کے لیے دیر نہیں ہونی چاہیتے ۔ کیونکہ تیموں کی ہر طرف سے چیخ و پکار آرہی ہے ۔ میں لوکل انجمن کو آگاہ کرتا ہوں کہ وہ دو دن کے اندر اندر اپنا جلسہ کر کے بتائے کہ وہ کیا کر سکتی ہے ۔ باقی جس قدر کمی ہو گی وہ جماعت کے ان فنڈوں سے پوری کر لی جاستے گی۔ جو ہمارے پاس آتے ہیں۔ دوستوں کو چاہیئے کہ جس قدر بھی ان سے ہو سکتا ہے ۔ یتیموں کی مدد کے لیے کوشش کریں ۔ اور جلد سے جلد بتائیں کہ ان سے یہ بوجھ کس قدر اُٹھ سکتا الفضل در فروری شاه ) ہے۔