خطبات محمود (جلد 6)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 151 of 580

خطبات محمود (جلد 6) — Page 151

ہے کیونکہ افراد کا مجموعہ ی جماعت ہوا کرتی ہے پس ترقی پانے والی جماعت کا فرض ہے کہ وہ اپنے افراد کی ترقی کی فکر کرے جو لوگ اس کا خیال نہیں کرتے۔ان کی جماعتیں آہستہ آہستہ ٹوٹ جاتی ہیں۔اور زور گھٹ جاتا ہے۔اسلام نے اس بات کو مد نظر رکھا ہے کہ جو لوگ صاحب استعداد اور صاحب وسعت ہوں اور ان کے پاس دولت ہو۔ان کا فرض ہے کہ وہ اپنے کزوروں کی مدد کریں۔اور جو سختی ہیں انکو امداد دیں۔ان کمزوروں میں بھی آگے دو قسمیں ہوتی ہیں۔ایک تو بڑے جوان ہوتے ہیں۔وہ تو کسی نہ کسی طرح اپنی پرورش کر سکتے ہیں۔دوسرے کمزور اور چھوٹے بچے ہوتے ہیں جن میں نہ عقل ہوتی ہے نہ تجربہ اس لیے وہ اپنی پرورش کے لیے کچھ نہیں کر سکتے۔پس ہمارے لیے یہ سوال سب سے زیادہ اہم ہے کہ ہمارے یہاں قادیان میں ایک بڑی جماعت یشمی کی موجود رہتی ہے۔ان میں سے کچھ تو ایسے میں کران کے والدین اپنے وطنوں اور عزیزوں کوچھوڑ کر بیاں آگئے اور موت نے ان کو اپنے بچوں سے جدا کر دیا۔اگر وہ بچے اپنے وطن میں ہوتے۔تو ان کے عزیزان کی پرورش کسی کسی طرح کرتے لیکن وہ تو اپنے تمام عزیزوں کو چھوڑ کر میاں آگئے تھے۔اور یہاں ہی اُنھوں نے اپنے عزیز بناتے تھے اور یہاں ہی اُن کی رشتہ داریاں ہوتی تھیں۔اور کچھ ایسے ہوتے ہیں کہ بیرونی جماعتوں سے آتے ہیں۔اور والدین کے فوت ہو جانے پر کسی نہ کسی طرح یہاں پہنچ جاتے ہیں۔اب تیموں کے متعلق ایک تو مقامی جماعت کا فرض ہے۔دوسرے تمام جماعت کا بھی فرض ہے۔بہ لحاظ مقامی ہونے کے قادیان کی جماعت کا فرض ہے۔اور بہ لحاظ تمام جماعت کا مرکز ہونے کے بیرونی جماعتوں کا بھی فرض ہے۔اس وقت تک تیموں کے متعلق کوئی احسن تجویز نہیں ہوسکی۔ندان پر وه کوئی توجہ کی جاسکی ہے، لیکن اب میں نے حکم دیا ہے کہ تمام قیموں کی فہرست بنائی جائے خواہ قادیان کے ہوں یا باہر سے آئے ہوتے ہوں جب وہ فہرست تیار ہو جائے گی تو ان کے اخراجات کو جماعت پر پھیلایا جائیگا۔اور بہت حد تک ان کی پرورش کا فرض قادیان کی مرکزی جماعت پر ہو گا یتیمی کے لیے بعض تجاویز کی گئی ہیں۔مگر وہ ابھی مکمل نہیں ہو ئیں۔مثلاً یہ کہ بعض لوگوں کے گھروں میں بچوں کو رکھا جاتے، لیکن اس میں یہ نقص ہے کہ بعض لوگ بچوں سے کام زیادہ لیتے ہیں اور ان کی تعلیم و تربیت کا کچھ خیال نہیں رکھتے۔اور یہ بھی تجویز کی گئی ہے کہ ایک تیم خانہ بنایا جائے لیکن بظاہر ہے کہ یتیم خانہ کے لیے بڑے اخراجات کی ضرورت ہے اور وہ ہماری جماعت زیادہ برداشت