خطبات محمود (جلد 6)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 150 of 580

خطبات محمود (جلد 6) — Page 150

۱۵۰ پس نیک اور نیکی کی تعریف ہر زمانہ ہر ملک اور ہر قوم میں جدا جدا اور مختلف رہی ہے۔ میں نے جو یہ آیت پڑھی ہے۔ اس میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔ مشرق و مغرب کی طرف منہ پھیرنا نیکی نہیں۔ اگر کوئی شخص قبلہ کی طرف منہ کر کے نماز پڑھتا ہے۔ اور اس کی نماز میں وہ مغز اور بچ نہیں ہے تو اس نے نہیں ہے ۔ بلکہ نیکی نام ہے اس کیفیت کا جو دل کے اندر پیدا ہوتی ہے اور یہ جو حرکات کی جاتی ہیں۔ یہ ان کا ظاہری ثبوت ہوتی ہیں ۔ پس اگر ان ظاہری حرکات میں وہ چیز نہیں جس کا تعلق دل سے ہے تو یہ ظاہری حرکات کچھ نہیں۔ محض قبلہ کی طرف منہ کرنا یا نماز پڑھنا یا روزہ رکھنا یا حج کرنا یہ تمام باتیں دلی کیفیت کے نہ ہونے کے باعث پیچ ہو جاتی ہیں۔ اگر نماز روزہ حج زکوۃ وغیرہ افعال سے خدا کی رضا مد نظر نہ ہو تو یہ چیزیں ہیچ ہیں۔ کیونکہ یہ تو آتے ہیں۔ مگر بغیر اس قلبی کیفیت کے گند اور ناکارہ ہیں اس کی ایسی ہی مثال ہے کہ ایک شخص کے پاس تلوار تو ہے مگر گند اور ہتھیار ہیں مگر زنگ خوردہ ہیں جس طرح ہتھیاروں کی قیمت انکی تیزی اور صفائی سے ہے۔ اسی طرح ان اعمال کی قدر خدا کی نظر میں اسی وقت ہوتی ہے۔ جب کہ انکے ذریعہ خدا کی رضا جوئی مقصد ہو۔ میں نے جو آیت پڑھی ہے اس میں نیکی کی علامتیں بیان کی گئی ہیں۔ خدا تعالیٰ فرماتا ہے۔ مشرق و مغرب کی طرف منہ کرنا نیکی نہیں۔ بلکہ ان افعال کے ساتھ عزیمیت قلب ہونی چاہیئے ۔ در حقیقت منہ پھیرنے میں کچھ بھی نہیں۔ اگر اس کے ساتھ دُعا شامل نہیں جس کی وجہ سے نماز کو صلوٰۃ کہا جاتا ہے ۔ یہ ارشاد الہی ہمیں سکھاتا ہے کہ ہم یتیموں اسیروں اور غریبوں کی مدد کریں اور خدا کی مخلوق سے ہمدردی کریں ۔ اس میں ہمیں انہی باتوں کا سبق دیا گیا ہے۔ کہ جو تکلیف میں ہو اس کی تکلیف دور کریں جو مصیبت میں ہو اس کی مصیبت ہٹانے کی کوشش کریں کیونکہ اگر صوم وصلوٰۃ کے ساتھ خدا کی اطاعت نہیں ۔ اس کی مخلوق سے ہمدردی نہیں ۔ تو پھر کچھ بھی نہیں ۔ یہ میں ان علامتوں میں سے ایک علامت کے متعلق اس وقت اپنی جماعت کو توجہ دلاتا ہوں اور دہ جماعت کے نیمی کی پرورش و تعلیم و تربیت کا سوال ہے ۔ اس میں شک نہیں کہ یہ نہایت اہم سوال و اس ہے اور کسی جماعت کی ترقی اس کے افراد کی ترقی پر منحصر ہوتی ہے۔ جب کسی جماعت کے اکثر افراد دنیا میں کامیاب ہوں تیھی وہ جماعت کامیاب شمار کی جاسکتی ہے ۔ چوڑھے اگر مل کر بیٹھ جاتیں تو وہ معزز نہیں کہلا سکتے۔ کسی جماعت کی عزت و عظمت اس کے افراد کی عزت و عظمت پر منحصر ہوتی