خطبات محمود (جلد 6)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 130 of 580

خطبات محمود (جلد 6) — Page 130

دکھا یا گیا۔ جس طرح اس وقت آپ لوگوں میں کھڑے ہو کر میں نے آپ کو توجہ دلائی تھی کہ ہوشیار ہو جاؤ، کیونکہ عذاب کے دن قریب ہیں اور دنیا کو عذاب کے بواعث سے آگاہ کرو اسی طرح آج خود ایسے حالات میں سے گزرنے کے بعد کہ جو بعض دفعہ خطر ناک صورت اختیار کئے ہوتے تھے، پھر ایک دفعہ اسی طرح میں طرح نبی کریم صلی الہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا کہ میں نذیر عریانی ہوں۔ میں بھی خدا کے حضور میں بری الذمہ ہونے کے لیے نذیر عریان کی حیثیت میں آپ لوگوں کو اس بات کی اطلاع دیتا ہوں کہ خُدا سے صلح کردہ تقویٰ اختیار کرو۔ پرہیزگاری اختیار کرو خشیت اللہ پیدا کرو اپنے دلوں کو صاف کرو۔ کیونکہ خدا تعالیٰ دنیا میں ایک زبر دست تبدیلی پیدا کرنا چاہتا ہے اور چاہتا ہے کہ اس کے بندے اسی کے ہو رہیں۔ اور شیطان کی حکومت کو توڑ دیا جائے تاکہ محض خدا کی ہی حکومت ہو اور اسی کی عبادت کی جائے۔ جس طرح بادشاہوں کی مرضی کے خلاف کرنے والے مٹا دیتے جاتے ہیں۔ اسی طرح بلکہ اس سے کروڑوں کروڑ گنا بڑھ کر خدا کی مثبت اور مرضی کے خلاف کرنے والے مٹائے جاتے ہیں لیں تم لوگ کوشش کرو کہ تم اس کی مرضی کے پورا کرنے والے ہو تاکہ تم اور تمہاری نسل کو باقی رکھا جائے ۔ ورنہ اللہ تعالیٰ ہی جانتا ہے کہ کیا ہو گا۔ میں اپنے نفس کو اپنے رشتہ داروں کو اپنے پیاروں کو اور ان کو جو میری بیعت میں شامل ہیں اور انھیں بھی جو تا حال بیعت میں تو شامل نہیں ۔ مگر مجھ سے اخلاص رکھتے ہیں۔ اور ان کو جن کے کانوں میں میری یہ بات پہنچے تقریر کے ذریعہ یا تحریر کے ذریعہ کہتا ہوں کہ وہ سب اصلاح کریں۔ خُدا سے صلح کر لیں ورنہ ایسے ایام در پیش ہیں جو نہایت ہی خو ہی خطرناک ہیں اور جیسا کہ جیسا کہ حضرت مسیح موعود عليه الصلوة والسلام نے لکھا ہے کہ قیامت کا نمونہ ہونگے۔ انسانوں کی عقلیں ماری جائیں گی اور وہ پاگل ہو جائیں گے ۔ اس وقت انھیں کے لیے رستگاری ہے جن کے لیے فرمایا گیا ہے ۔ إِلَّا الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّلِحَتِ وَتَوَاصَوْا بِالْحَقِّ وَتَوَاصَوا بالصبر (العصر) میں تقویٰ اختیار کرو اور کل کی فکر کرد تو بہ کروں توبہ کروں کیونکہ خدا گنا ہوں کے بخشنے والا مہربان ہے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اگر کسی کے گناہ سمندر کی جھاگ کے برابر بھی ہوں اور وہ خدا کے حضور میں جھک جائے، تو بھی اسکے تمام گناہ معاف کر دیئے جائیں گے لیے پس اپنے گناہوں کی معافی کے لیے خدا کے حضور عرض کرو۔ اس کی جناب میں پشیمان ہو ن ہو اور اس سے معالم سے معافی چا ہوتا کہ تم پر خدا کا فضل ہو۔ (الفضل ، دسمبر الہ ) ا له بخاری کتاب الرقاق باب الانتهاء من المعاصي ت مشكورة المصابيح كتاب الاستغفار والتوبة الفصل الثاني