خطبات محمود (جلد 6) — Page 111
سے ان , سے چاہتے ہیں کہ ان کی طرح عزت حاصل ہو جائے مگر اس سے یہ ممکن نہیں۔ عزت ان کی عمدہ صفات ما حاصل کرنے سے ہو سکتی ہے۔ بنگال اور مدراس کے لوگ تعلیم میں بہت ترقی کر گئے ہیں مگر اپنا لباس وہی رکھتے ہیں۔ بنگائی سرنگے اور دھوتی باندھے ہوتے ہوتے ہیں مفتی صاحب جب مدر اس گئے تو انھوں نے بتایا کہ چیف کورٹ کے حج بھی ننگے پیر بازاروں میں پھرتے تھے ، اور اس ان کی عزت میں کچھ بھی فر نہیں آتا۔ کیونکہ انہوں نے اہل یورپ کی سیکھنے کی باتیں سکا سیکھی ہیں حضرت میں موجود کوئی کوٹ پتلون نہیں پہنتے تھے مگر خدا نے آپ کو کتنی عزت دی، تو معلوم ہوا کہ ساس میں تقلید کرنے سے عزت حاصل نہیں ہوتی ۔ پھر بعض لوگ بھیڑ کی طرح تقلید کرتے ہیں ۔ اگر پوچھا جاتے کہ یہ کام کیوں کرتے ہو تو کہیں گے کہ ہم نے اپنے باپ دادا کو اسی طرح کرتے دیکھا ۔ اگر کوئی عقل کی بات بتاؤ اور کہو کہ ایسا کرو تو کہیں گے ہم نہیں مان سکتے۔ کیونکہ یہ ہمارے باپ دادا کے طریقہ کے خلاف ہے۔ یہ نہیں دیکھیں گے کہ کونسی بات مفید اور عقل کے مطابق ہے ۔ اللہ تعالیٰ نے سورۃ الناس میں اس طرف توجہ دلاتی ہے کہ کیونکر انسان انسانیت سے گرتا ہے اور ساتھ ہی گرنے سے محفوظ رہنے کا طریق بنایا ہے۔ فرمایا : - قل اعوذ برب الناس إلخ یعنی تین ذریعے ہیں جن کے ذریعہ انسان او پر چڑھتا ہے اور تین ہی وہ ذریعے ہیں جن سے نیچے گرتا ہے ۔ ان تین ذرائع میں سے ایک ربوبیت ہے ۔ دوسرا ملکیت ہے اور میرا الوہیت ۔ بہت دفعہ ربوبیت کے ذریعہ ابتلا آتا ہے اور بہت دفعہ ملکیت کے ذریعہ اور بہت دفعہ الوہیت کے ذریعہ اور پھر ان میں سے ہر ایک کی دو قسمیں ہیں۔ ایک نسبت فاعلی کے لحاظ سے اور دوسری نسبت مفعولی کے لحاظ سے یعنی کبھی انسان دوسروں کا رب بنتا ہے ب بنتا ہے اور کبھی دوسروں کو اپنا رب بنا تا ہے پھر کبھی خود اپنا رب بناتا پھر ملک بنتا ہے اور کبھی دوسروں کو اپنا ملک بناتا ہے ۔ اس طرح کبھی خود اللہ بنتا ہے اور کبھی دوسروں کو اپنا اللہ بنا لیتا ہے گویا تین سے چھ ذریعے بن جاتے ہیں۔ کبھی یہ رب ہوتا ہے۔ یہ یاد رکھنا چاہیئے کہ لفظ رب عام ہے ۔ خدا کے لیے مثلاً رب الناس آیا ہے۔ اس کے معنی ہیں پیدا کرنے والا ۔ اور پھر اونی حالت سے اعلیٰ کی طرف لیجانے والا۔ اور بعض دفعہ دیکھ کہیں گے۔ اور اس کے معنی ہونگے تمہارا سردار تو لغت والوں نے دونوں طرح لکھا ہے کہ لفظ رب بغیر اضافت یا با ضعافت خدا کے لیے آتا ہے اور ایسا بھی ہوتا ہے کہ خدا کے سوا اوروں کے لیے بھی بول لیتے ہیں۔ بہر حال ایک ربوبیت انسان کی ہوتی ہے۔ مثلاً اس کے غریب رشتہ دار ہیں اور وہ ان کی پرورش کرتا ہے۔ اس پر ا نیلام۔ اس طرح آتا ہے کہ اس کے پاس