خطبات محمود (جلد 6) — Page 101
بیتی وغیرہ میں ایسے مسلمان سیٹھ ہیں جو اسلام کے لیے خرچ کرتے ہیں۔نواب صدیق حسن خان نے دینی کتابیں تالیف کیں سینکڑوں روپے خرچ کر کے مفت شائع کیں۔پھر خوارج کتابیں تصنیف کرتے ہیں اور مفت شائع کرتے ہیں کیونکہ ان کا خیال ہے کہ دینی کتاب پہنچنا جائز نہیں۔باوجود ان مالی قربانیوں کے ان کی قربانیاں حضرت ایو نگران حضرت عمریض ، حضرت عثمان ، حضرت علی نہ کی قربانیوں کو نہیں پہنچتیں۔ان میں سے تو کسی نے لاکھ روپیہ بھی خرچ نہیں کیا۔زیادہ سے زیادہ دس ہزار خرچ کیا ہوگا اور حضرت علی کی مالی قربانی تو کیا ہوتی وہ بہت ہی غریب تھے حتی کہ ان کے والد اس قدر غریب تھے کہ حضرت علیؓ کو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے گھر میں لے آتے تھے کے باوجود ان کی اس قدر تھوڑی قربانیوں کے جوان سیٹھوں کے مقابلہ میں بہت کم ہیں۔پھر بھی جوان کا درجہ ہے وہ ان کو میتر نہیں۔اور نہ ہوسکتا ہے۔کیوں ! اس کی وجہ یہی ہے کہ صحابہ نے جو کچھ خرچ کیا۔وہ ایسے وقت پر کیا جبکہ اسلام کو بہت ہی سخت ضرورت تھی۔اور نہایت اخلاص کے ساتھ کیا۔اور یہ لوگ جو خرچ کرتے ہیں ضرورت کے مطابق نہیں خرچ کرتے اور نہ ان کی وہ نیت ہوتی ہے۔پیس کسی چیز کی قیمت وقت کے مناسب ہونے سے زیادہ ہوا کرتی ہے۔یہ لوگ مدرسہ بنواتے ہیں۔یہ بیشک قابل قدر چیز ہے۔مگر اسلام کی سچی خدمت نہیں۔اور نہ ضرورت کے مطابق ہے۔آج ہماری جماعت میں جو ایک پیسہ کی قدر ہے وہ بعد میں لاکھوں روپے کی بھی نہیں ہوگی۔کیونکہ اس وقت اسلام کو بہت ضرورت ہے۔اللہ تعالیٰ اخلاص کو دیکھتا ہے۔نام و نمود کو نہیں دیکھتا ہیں وہ جانتا ؟ که جو شخص ضرورت کے مطابق خرچ کرتا ہے۔اس کا خواہ پیسہ ہی کیوں نہ ہو۔ان لاکھوں اور کروڑوں رونیوں پر بھاری ہے جو ضرورت کے مطابق خرچ نہیں کئے جاتے۔بعض لوگ کہتے ہیں کہ مسلمان تجارت سے ترقی کر سکتے ہیں۔کچھ صنعت و حرفت میں کچھ تعلیم میں مصروف ہیں، لیکن یہ سب لوگ حقیقت سے بے خبر ہیں۔اسلام کی خدمت اور سچی خدمت وہ ہے جس طریق پر ہم کام کرتے ہیں کیونکہ خدا نے میں اس طریق پر قائم کیا ہے۔مسلمان کمزور ہیں اور دنیا کہتی ہے کہ وہ آج گئے کہ کل لیکن ہم تو دنیاوی لحاظ سے ان سے بھی بہت کمزور ہیں۔وہ جہاں چاہتے ہیں ہمارے آدمیوں کو مار لیتے ہیں اور تکلیفیں پہنچا لیتے ہیں مسلمان مُردہ ہیں اور دہ مردے ہیں۔مارتے ہیں۔تو اس سے ہماری کمزوری کا اندازہ ہوسکتا ہے پس جوایسے وقت میں قربانی کریگا اور قدم آگے بڑھائیگا خدا کے ضور اسکی اس قربانی اوردین کی راہ میں قدم اٹھانے کی بہ زیادہ قدر ہوگی اگر اس وقت تو جسم میں دین کیئے له سیرت ابن ہشام مصری جلد اول ص ۲۳