خطبات محمود (جلد 6)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 100 of 580

خطبات محمود (جلد 6) — Page 100

١٠٠ محض اس لیے تھا ۔ تا کہ جو کمزور ہوں وہ بعد میں وعدہ خلاف نہ کہلائیں ۔ اسلام کی حالت اس وقت پکارتی ہے کہ اس کے لیے ساری ہی زندگی وقف کی جائے۔ اور بہت سے لوگ ہوں جو زندگی وقف کر دیں ۔ اس لیے ایک سال کے بعد میں دوبارہ تحریک کرتا ہوں کہ ہماری اعت کے لوگ دین اسلام کی خدمت کے لیے زندگی وقف کریں ۔ اس کام کے لیے ہم تو کر نہیں رکھ سکتے شت اور نہ نوکروں سے کام ہو سکتا ہے۔ وہ لوگ اپنے آپ کو کامل طور پر وقف کریں ۔ اور اپنا بوجه خود بردات کریں اور اپنی معیشت آپ پیدا کر کے باقی وقت خدمت دین میں لگا دیں۔ ایسی ہی جماعتیں ہوتی ہیں۔ جو دین کی خدمت کرتی رہی ہیں ہمیشہ سے جن لوگوں نے دین کو پھیلایا ہے وہ ایسے ہی ہوتے رہے ہیں۔ ملازم اس قابل نہیں ہوتے ۔ ایک حد تک تو ملازم رکھے جاتے ہیں۔ خود رسول کریم نے بعض علاقوں اور شہروں میں ملازم رکھے تھے۔ اور وہ بڑے بڑے صحابی تھے۔ خلفاء کے عہد میں بھی ایسا ہی ہوا، لیکن وہ لوگ جو لاکھوں کی تعداد میں اسلام کی تائید کے لیے گھروں سے نکلتے تھے وہ ملازم نہیں تھے جس وقت مخالفین اسلام کی سینہ زوریاں اور ظالمانہ حملہ حد سے گذر گئے۔ تو ہر ایک صوبہ میں آدمی بھیجے جاتے تھے۔ اور عام لوگوں کو بلایا جاتا تھا اور وہ بغیر معاوضہ لیے جاتے تھے۔ ایسی جماعتیں جب تک نہ ہوں کا میابی نہیں ہو سکتی۔ خداوند تعالیٰ فرماتا ہے ولتكن منكم امة يدعون الى الخير و يا مرون بالمعروف وينهون عن المنكر و أولئك هم المفلحون - کامیاب ہوں گے وہ لوگ جو دین کے لیے زندگی وقف کرتے ہیں اس آیت میں ہے ولتكن منكم أمة سب لوگ زندگی وقف نہیں کر سکتے ۔ ایک جماعت ہونی چاہیئے ۔ ۔ پس آج میں پھر تمام جماعت کو تحریک کرتا ہوں جو یہاں کے دوست ہیں وہ بھی اور بیرون جات کے بھی غور کریں۔ اور خدا کی توفیق سے بعد استخارہ جن کا شرح صدر ہو۔ اپنے آپ کو پیش کریں۔ ان میں سے جو لوگ اس قابل ہوں گے کہ ان کو اس وقت لگا دیا جائے وہ لگا دیتے جائیں گے اور جن میں کمی ہو گی ان کو حسب منشار تعلیم دلوائی جائیگی ۔ اور وہ لوگ جن کو اس وقت کسی کمی کی وجہ سے نہیں لیا گیا تھا۔ ان میں حسب سے بھی پیش کر سکتے ہیں۔ ممکن ہے اب ان کی کمی پوری ہو گئی ہو۔ یہ ایک ایسا وقت ہے کہ اس وقت تھوڑی خدمت بعد میں بڑی بڑی خدمتوں سے بہت افضل ہوگیا۔ اسلام میٹ رہا ہے پس جو لوگ اس وقت خدمت کریں گے ۔ ان کی خدمت زیادہ قابل قدر ہوگی۔ دیکھو اس وقت بعض مسلمان ہیں جو اسلام کے نام پوکروڑوں روپیہ اپنی عمر میں خرچ کرتے ہیں ۔