خطبات محمود (جلد 6)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 77 of 580

خطبات محمود (جلد 6) — Page 77

سے ہوئیں۔پہلی جنگیں ایسی تھیں کہ سپاہی کچھ تنخواہ لیتے تھے۔ان کو فریق مخالف کے خلاف کوئی جوش نہ ہوتا تھا۔انہیں یہ مد نظر نہ ہوتا تھا کہ تیمور فتح حاصل کرتا ہے یا اس کا مدمقابل ، وہ لڑتے تھے لیکن اصل جوش ندار د تھا۔ہاں وہ جوش پیدا ہو جاتا تھا۔جو لڑائی کے وقت ہوتا ہے۔جو دوست لڑائی سے آتے ہیں۔ان میں سے بعض کے ق سے میں نے پوچھا ہے کہ لڑتے وقت کیسا جوش ہوتا ہے۔جوش پیدا ہونے کے تو سب مقر ہیں، مگر ایک نے کہا کہ لڑتے وقت خود بخود اس نظارہ سے ایک جوش پیدا ہو جاتا ہے۔اگر اس وقت ہتھیار نہ ہوں تو ہا تھوں سے ہی دشمن کو نوچ لینے کو جی چاہتا ہے۔یہ جوش تو ہے ، مگر یہ جنگ کے باعث ہے نہ کہ جنگ اس جوش کے باعث ہوتی ہے تو وہ جوش اصلی جوش نہیں تھے۔کیونکہ وہ جنگیں ملک کی جنگیں نہیں ہوتی تھیں۔بلکہ را جاؤں اور بادشاہوں کی جنگیں ہوتی تھیں۔اس لیے اس جنگ کا اثر بھی ہوتا تھا کہ لڑنے والے ایک میدان میں لڑتے تھے۔اگر اس میں قدم آگکھڑ گئے تو شکست ہو گئی اور اس ملک کے باشندے وفود کی صورت میں فاتح کی خدمت میں حاضر ہو گئے کہ ہم آپ کے تابع ہیں۔کیونکہ لڑنے والوں کو معلوم نہیں ہوتا تھا۔کہ ہم کیوں لڑے تھے اور کیوں لڑائی کو جاری رکھیں، لیکن آج تعلیم کی ترقی کی وجہ سے ہر شخص کو حکومت میں کچھ نہ کچھ دخل ہے اس لیے وہ جنگ راجہ یا بادشاہ کی جنگ نہیں خیال کرتا۔بلکہ یہی خیال کرتا ہے کہ میری جنگ ہے اور اس میں اگر شکست ہوئی تو میری آزادی چھین جائیگی۔ایشیائی افواج کو اگر الگ کر کے دیکھا جائیگا۔تو معلوم ہوتا ہے کہ یورپین اقوام اسی غرض سے لڑرہی ہیں کہ اس جنگ میں ہماری بادشاد بہت ہماری حکومت اور ہماری آزادی خطرہ میں ہے۔بڑے بڑے امراء جن کی ہزاروں لاکھوں کی آمدنی ہے و معمولی سپاہیوں کی طرح میدان میں لڑرہے ہیں۔گھر پر آرام و آسائش اور بیسیوں خدمتگذاروں کو چھوڑ کر ایک سپاہی کی حیثیت سے میدان میں دوسروں کی خدمت کر رہے ہیں۔کیوں ؟ اس لیے کہ جانتے ہیں کہ اگر ہم نے سستی سے کام لیا تو ہماری قومی آزادی مٹ جائیگی۔جرمن و آسٹریا میں بعض علاقے ہیں جو اس جنگ کو اپنی جنگ نہیں سمجھتے۔بلکہ بادشاہوں کی جنگ جانتے ہیں۔اس لیے ان میں لڑائی کے لیے کوئی خاص جوش نہیں۔ہے اور جب وہ خطرہ دیکھتے ہیں تو بھاگ جاتے ہیں۔لیکن جو تو میں اس جنگ کو اپنی جنگ سمجھتی ہیں۔وہ بڑی بہادری اور دلیری سے مشکلات کو جھیلتی ہیں جس سے معلوم ہو سکتا ہے کہ کسی کام کی غرض وغایت کو سمجھ کر کرنے اور ونی کرنے میں کس قدر فرق ہوتا ہے۔غرض جب تک کسی کام کے فوائد معلوم نہ ہوں۔جوش پیدا نہیں ہو سکتا۔اور پھر جب تک اس کے کرنے کے ذرائع معلوم نہ ہوں۔کامیابی نہیں ہو سکتی۔مثلاً کوئی طالب علم ہو اور وہ چاہتا ہو کہ میں فاضل ہو جاؤں اور