خطبات محمود (جلد 6)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 67 of 580

خطبات محمود (جلد 6) — Page 67

46 خلیفہ ہوئے انہوں نے بھی ایسا ہی کیا مگر اور جومرید تھے وہ خاموش کھڑے دیکھتے رہے۔ان کے ہونے والے خلیفہ نے کہا کہ اب کیوں نہ تم نے آگ کا بوسہ لے لیا۔اگر پیر کی اتباع ہی کرنا تھی۔تو آگ پر جھکنا تھا۔غرض مصائب اور مشکلات میں ہی انسان کی آزمائش ہوتی ہے مسیح موعود کے وقت میں ہماری ترقی ہوئی مگر وہ اس ترقی کے مقابلہ میں جس کا حضرت مسیح موعود کی زبان سے نہیں وعدہ دیا گیا ہے۔بہت کم ہے اور حضرت مسیح موعود نے اپنی کتاب الوصیت میں تحریر فرمایا ہے کہ جب تک میں نہ جاؤں قدرت ثانی نہیں آسکتی۔اس کے آنے کے لیے میرا جانا ضروری ہے۔اور قدرت ثانی کے ذریعہ ترقیاں خدا کی طرف سے ظہور میں آئیں گی پس کوئی مصیبت اور تکلیف اور سختی مومن کے قدم کو آگے بڑھنے سے نہیں روک سکتی۔حضرت خلیفہ اول رضی اللہ عنہ کی خلافت کے پہلے سال میں بجٹ بناتے ہوئے خواجہ صاحب وغیرہ کی طرف سے کہا گیا کہ اس سال قحط ہے۔اس لیے بجٹ تھوڑا بنایا جائے جس پر حضرت خلیفہ المسیح نے فرمایا نہیں چونکہ اس دفعہ قحط ہے اس لیے بجٹ زیادہ بنایا جائے۔آپ نے فرمایا کہ مومن مصائب اور تکالیف سے گھبرا کر دینی کاموں میں شکست نہیں ہوا کرتا۔پس یہ سچائی جیسے اس وقت سچائی تھی آج بھی سچائی ہے۔تو میں آپ لوگوں کو جو بیاں ہیں اور ان کو جو بیرو نجات میں ہیں۔آگاہ کرتا ہوں کہ ہمارے مخالف بہت زور کے ساتھ اور اپنے تمام سامانوں کے ساتھ اُٹھتے ہیں کہ ہم کو کچل ڈالیں، لیکن یہ آزمائش کا وقت ہے۔اس لیے ہمیں پہلے سے زیادہ استقامت اور قربانی دکھانی چاہیئے۔اللہ تعالیٰ ہمیں اس امتحان میں پورا فرما دے۔اور اس کے فضل اور رحمتیں ہمارے شامل حال ہوں۔ہم اس کے فضلوں اور انعاموں کے وارث ہو جائیں۔آمیر ضے : الفضل و ر جولائی شافته )