خطبات محمود (جلد 6)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 59 of 580

خطبات محمود (جلد 6) — Page 59

12 مصائب میں قدم آگے ہی بڑھے ا فرموده ۲۱ار جون حضور نے تشہد وتعوذ اور سورۃ فاتحہ کے بعد مندرجہ ذیل آیات تلاوت فرمائی :- ولارا المُؤمِنُونَ الْاِحْزَابَ قَالُوا هَذَا مَا وَ عِدِنَا اللهُ وَ رَسُولُهُ وَصَدَقَ اللهُ وَرَسُولُهُ وَمَا زَادَهُمُ الإِيمَانَا وَ تَلِيماه (سورۃ احزاب : ۲۳) اللہ تعالیٰ کی کسی حکمت کے ماتحت تین مہینہ کے بعد مجھ کو آپ لوگوں کو کچھ سنانے کا موقعہ ملاہے خطبه جمعه در حقیقت مسلمانوں کو ان کے فرائض سے آگاہ کرنے کا ایک ذریعہ ہے۔جیسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسم نے فقر فرمایا ہے اور رسول کریم نے کیا خود خدا نے ہی مقرر فرمایا ہے۔در حقیقت انسان کی عادت کو ہم دیکھتے ہیں کہ اگر وہ اپنے فرائض سے بار بار آگاہ نہ کیا جائے تو غافل ہو جاتا ہے سوائے اس شخص کے جس کا دل ایسا منصفی اور مجلی ہو جاتے۔اور اس کو رویت کا مقام حاصل ہو جائے۔ایسے شخص کے علاوہ باقی تمام انسان بار بار کی آگاہی اور تنبیہ کے محتاج ہیں حتی کہ اللہ کے رسول محمد صلی الہ علیہ وسلم کے صحابہ بھی اس کے محتاج تھے۔ایک صحابی نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے حضور عرض کیا کہ میں تو منافق معلوم ہوتا ہوں۔آپؐ نے فرمایا کس طرح۔اس نے کہا کہ جب حضور کے سامنے آتا ہوں تو دوزخ اور جنت دونوں میرے سامنے آجاتے ہیں اور ایسا معلوم ہوتا ہے کہ یہ جنت ہے۔اگر میں خدا کی اطاعت کروں گا تو اس میں مجھ کو جگہ دی جائے گی اور اگر اس کی نافرمانی کروں گا تو یہ دوزخ ہے اس میں مجھے ڈال دیا جائے گا۔لیکن جب حضور کے پاس سے چلا جاتا ہوں تو یہ حالت نہیں رہتی۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا له این ناحیه کتاب اقامة الصلوة باب ما جاء فى الاسماع للخطبة والانصات