خطبات محمود (جلد 6)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 537 of 580

خطبات محمود (جلد 6) — Page 537

۵۳۷ ان کی کوشش عارضی اور ان کا جوش وقتی ہوتا ہے۔ایک دو تین چار پانچ چھ سال کام کر کے اپنے خیال میں منیشن سے لیتے ہیں۔حالانکہ دینی معاملات میں پیشن اس دُنیا میں مل ہی نہیں سکتی۔اگلے جہان میں جا کر لے گئی ہیں ان کو پینشن نہیں ملتی۔بلکہ ان کی مثال ایسی ہوتی ہے جیسا کہ کوئی شخص ۱۵- ۲۰ سال طازمت کر کے استعفیٰ دیدے میں طرح اس غریب کی پندرہ میں سال کی ملازمت کا اسے کچھ بدلہ نہیں ملے گا۔اسی طرح ان کا حال ہوتا ہے بلکہ اس سے بھی زیادہ خطرناک کیونکہ وہ اپنی عمر کی محنت کو رائیگاں کر دیتے ہیں۔اور خدا تعالیٰ کی طرف سے جن فضلوں کے ملنے کی تیاری ہو رہی ہوتی ہے۔ان کو لات مار کر رد کر دیا جاتا ہے۔ایسی حالت میں جہاں میں دوبارہ اپنی جماعت کو یہ بات کہنا اپنا فرض نبی سمجھتا ہوں وہاں یہ میرے لیے تکلیف دہ بھی ہے پس میں پھر توجہ دلاتا ہوں کہ ہماری جماعت اس بات کو سمجھے اور خوب یاد رکھے مگر یاد رکھنا کیا ہیں تویہی کہونگا کہین ہے اور سمجھ لے کیونکہ یاد تو وہی بات رکھی جاتی ہے جو سن اور سمجھ لی جائے مگر یہ بات تو ایسی ہے جسے ابھی بہتوں نے سنا ہی نہیں۔اور اگر سنا ہے تو سمجھا ہی نہیں ہیں میں نہیں نہیں کہتا کہ اس بات کو یاد رکھو۔کیونکہ بہت کم ہیں جنہیں یا درکھنے کے لیے کہا جا سکتا ہے۔اور بہت ایسے ہیں جنہوں نے سنا ہی نہیں۔اس لیے میں کہتا ہوں۔وہ نہیں اور جنہوں نے گنا ہے۔وہ یاد رکھیں۔اور جنہوں نے یاد کر کے بُھلا دیا ہے۔وہ یاد کریں۔اور یاد رکھیں کہ تبلیغ اور پیچھے سلسلہ کی اشانت مولویوں کے ذریعہ نہیں ہوا کرتی۔مولویوں کا اور کام ہوا کرتا ہے۔ان کی مثال خزانچی کی سی ہوتی ہے۔اوران کا کام یہ ہوتا ہے کہ ہتھیاروں اور دوسرے سامان کو جمع کریں اور اس کی حفاظت کریں۔وہ افسر لیڈر اور خزانچی کا کام دے سکتے ہیں۔نہ یہ کہ تمام فوج ان سے بھرتی کی جائے۔جس طرح کوئی فوج ایسی نہیں ہوتی کہ جس میں تمام افسر ہی افسر ہوں اور وہ دشمن سے لڑ کر فتح پائیں۔اسی طرح کوئی سلسلہ ترقی نہیں کر سکتا جس کا سارا کام صرف علماء کے سپرد ہو۔اور شریعت نے تبلیغ کا کام صرف علما ہی کے سپرد نہیں کیا۔بلکہ یہ کہا ہے کہ كُنتُمْ خَيْرَ أُمَّةٍ أُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ تأمرُونَ بِالْمَعْرُوفِ وَتَنْهَونَ عَنِ المُنكَرِ (ال عمران (11) اس میں سب کو مخاطب کیا گیا ہے اور یہ نہیں کہا کہ صرف علامہ لوگوں کو تبلیغ کرنے کے لیے پیدا کئے گئے ہیں۔بلکہ یہ کہا ہے کہ تم سب دنیا کے فائدہ کے لیے پیدا کئے گئے ہو۔پس ہر ایک وہ شخص جو اسلام قبول کرتا ہے یا دوسرے الفاظ میں یہ کہ ہر ایک شخص جو عمارت قبول کرتا ہے اس کا فرض ہے کہ تبلیغ کرے۔کیونکہ کوئی سلسلہ ترقی نہیں کرتا جب تک اس کی تبلیغی