خطبات محمود (جلد 6) — Page 449
۴۴۹ نہیں مٹ سکتا لیکن اگر ایک اپنی جگہ سے اس وقت ہٹ جائے۔اور پھر نرمی سے سمجھائے۔تو اختلاف مٹ سکتا ہے۔گھر میں میاں بیوی کے تعلقات ہوتے ہیں۔دونوں کے مزاج میں اختلاف ہے۔ایک مکان میاں کو پسند ہے۔بیوی کو نہیں۔اب بیوی کے کہ ہم تو بیاں نہیں رہتے یا بیوی کو ایک لباس پسند ہے اور میاں کو نہیں۔پھر اختلاف ہوگا اگر دونوں یہ چاہیں کہ ایک کے خلاف دوسرا نہ ہو۔اور ایک دوسرے کی پسند کو پسند کرے تو اختلاف بڑھے گا۔مگر اگر باوجود پسندیدگی کے وہ سمجھ لیں کہ یہ اختلاف ہوتا ہی ہے تو پھر ناراضگی کی کوئی بات نہیں رہے گی۔مگر مفید اختلاف ضروری ہوتا ہے۔مثلاً انبیاء۔آتے ہیں جو انبیاء کی بعثت پر اختلاف ہوتا ہے۔نادان لوگ انہیں مطعون کیا کرتے ہیں۔مگر نہیں جانتے کہ وہ اختلاف ضروری ہوتا ہے۔دیکھنا یہ چاہیئے کہ اختلاف جو ہے وہ حق پر ہے کہ ناحق پر۔اگر حق پر۔تو ہونا چلیئے اگر ناحق پر تو کوئی پرواہ نہیں کرنا چاہیے۔دیکھو مرض اور دوا کا اختلاف حتی ہے۔ایک مریض ہے۔اس کی مرض کو توڑنے کے لیے دوائی دی جائیگی۔اور یہ ایک اختلاف ہے لیکن یہ جائز ہے۔اس کا نام تفرقہ ڈالنا ہیں، بلکہ یہ تو فرقہ مانا ہے کیونکہ اس کے بغیر زندگی محال ہے ، لیکن اب اس بات کی ضرورت ہے کہ تفرقہ و اتحاد کی حد بندی کی جائے تاکہ معلوم ہو جاتے کہ کہاں تک تفرقہ رہے تو مضر نہیں۔اور اگر اس سے بڑھے تو مضر ہو گا۔کیونکہ نیکی کے کام بھی اگر مد کے اندر نہ ہوں تو بڑے ہو جاتے ہیں۔نماز اچھا کام ہے، لیکن سورج کے نکلتے وقت منع ہے۔عید کے دن شیطان روزہ رکھتا ہے۔خرچ کرنا اچھا۔لیکن جو لوگ حالت کو مد نظر رکھ کر خرچ نہیں کرتے اور بے دریغ خرچ کرتے چلے جاتے ہیں ان کو قرآن اخوان الشیاطین کہتا ہے بعض حالتوں میں اختلاف کا مٹانا ہی اختلاف ڈالنا ہوتا ہے اور قرآن کریم نے بنا دیا کہ لوگوں کے حالات مختلف ہوتے ہیں۔اگر اس کا خیال نہ رکھا جائے تو فساد کا موجب ہوتا ہے اور یہ غلطی ہے۔بلکہ چاہیئے کہ حالت و مزاج کو مد نظر رکھو۔اخلاق و عادت کا خیال رکھو جب یہ ہوگا تو اختلاف مٹ جائے گا۔اور جب یہ خیال کیا جائیگا کہ یہ اختلاف رہنا ضروری ہے۔اور خدا کی طرف سے پیدا کیا گیا ہے۔تو کوئی اختلاف نہ ہوگا۔اور اس اختلاف کا مٹانا اسی اتحاد کو توڑتا ہے۔آج میں اسی حصہ پر بیان ختم کرتا ہوں۔اگر اللہ تعالیٰ نے توفیق دی۔تو اگلے جمعہ آئندہ حصہ پر بیان کرونگا الفضل ۳ رجون ۱۹۲۰ ) ہا ہے۔