خطبات محمود (جلد 6) — Page 43
ایک مقام سے گزر رہے تھے تو فرمایا۔یہ جو دو قبریں ہیں ان میں دفن ہونے والوں کو جن باتوں پر عذاب دیا جا رہا ہے وہ چھوٹی ہیں مگر پھر بھی بڑی ہیں۔فرمایا ایک تو وہ ہے جو پیشاب کرتا تھا اور اس کی چھینٹوں سے پر ہی نہ کرتا تھا اور دوسرا وہ ہے جو چغل خوری کرتا تھا یہ تو فرمایا کہ دوچھوٹی باتوں کی وجہ سے عذاب دیتے جارہے ہیں مگر ہیں وہ بڑی۔اب اس کے متعلق کوئی کہ سکتا ہے کہ یہ عجیب بات ہے۔ایک چیز چھوٹی بھی ہو اور پھر بڑی بھی۔اگر وہ چھوٹی ہے تو بڑی کس طرح ہوئی اور اگر بڑی ہے تو چھوٹی کس طرح دیگر یہ اس طرح کہ بعض وہ لوگ جو تہمت اور استقلال اور بہادری رکھتے ہیں۔وہ بڑے بڑے کا موں کو تو کرتے ہیں، لیکن وہ باتیں جو ان کی نظر میں معمولی اور چھوٹی ہوتی ہیں ان کو لا ابالی طبیعت کی وجہ سے ترک کر دیتے ہیں اور ان کی طرف توجہ ہی نہیں کرتے اور بعض وہ لوگ جو بزدل کمزور اور سمت اور کم حوصلہ ہوتے ہیں وہ چھوٹی چھوٹی باتوں کی تو بڑی احتیاط کرتے ہیں مگر بڑی بڑی کو بالکل چھوڑ جاتے ہیں۔اس کی مثال عام طور پر دنیا میں مل جاتی ہے۔کتی لوگ ایسے ہوتے ہیں جو اپنا مال و جان دین کے لیے دینے کو تیار ہونگے۔نمازیں باقاعدہ اور بلا ناغہ پڑھیں گے روزے رکھیں گے زکوۃ دیں گے مگر ساتھ ڈاڑھیاں منڈوائیں گے یا شریعیت میں جتنی بھی رکھنے کا حکم ہو اتنی نہ رکھیں گے۔حالانکہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ڈاڑھی منڈوانے سے منع کہ وہ فرمایا ہے۔یہ ان کا لا ابالی پن ہوتا ہے۔وہ سمجھتے ہیں کہ خدا تعالیٰ اور اس کے رسول کے بڑے بڑے احکام مانتے ہیں تو ڈاڑھی کا کیا ہے۔کیا ایمان ڈاڑھی کے بالوں پر آرہا ہے کہ اگر نہ ہونگے تو ایمان بھی نہ ہوگا۔یہ تو ہوئی لا ابالی طبیعت کے لوگوں کی مثال۔دوسری قسم کے لوگوں کی مثال یہ ہے بعض ایسے ہوں گے جو دوسروں کے مال کھا جائیں گئے ھوگا اور فریب کر گزریں گے نظلم وستم سے باز نہ آئیں گے لیکن اگر کسی کا پاجامہ ٹخنے سے نیچے دیکھ لیں گے تو آگ بگولہ ہو جائیں گے۔اگر سجدہ میں ہاتھ کھلے نہ ہوں گے تو فتویٰ لگا دیں گے کہ نماز ہی باطل ہوگئی ہے۔اس قسم کی باتیں ادنیٰ طبیعت اور کمزور طبائع کے لوگ کیا کرتے ہیں۔وہ چھوٹی چھوٹی باتوں کو بڑا بنا کر دکھاتے ہیں تاکہ یہ معلوم ہو کہ ہم بھی کچھ کر رہے ہیں۔مثلاً ڈاڑھی کے متعلق کہیں گے تریہی سارا اسلام ہے پاجامہ ٹخنہ چھوڑ پنڈلی سے بھی اوپر چڑھالیں گے اور کسی کو انگریزی وضع کا کوٹ پہنے ہوئے دیکھیں گے تو جھٹ فتوی لگا دیں گے کہ یہ سنت کے خلاف ہے۔رسولِ کریم کے وقت ایسا کوٹ نہیں پہنا له بخاری کتاب الوضو باب من الكبائر أن لا يستتر من بوله : ته بخاری کتاب اللباس اب تعلیم الاطفار