خطبات محمود (جلد 6) — Page 44
جاتا تھا ، لیکن یوں دین کے لیے ایک پیسہ خرچ کرنے کے لیے بھی تیار نہیں ہوں گے اور ذرا ذراسی باتوں پر اسلام کو پس پشت پھینک دیں گے۔تو ایسے لوگ چھوٹی باتوں کو بڑا اور اہم قرار دیا کرتے ہیں تا کہ اس طرح اپنی بزدلی اور کم ہمتی کو چھپائیں۔گو اس بات کا ان کے دل میں احساس نہ بھی ہو۔مگر بات یہی ہے کہ انکے اندر کمزوری اور نیز دلی اور شستی کا جو مادہ ہوتا ہے۔وہ انہیں اس طرف لے جاتا ہے اور و معمولی معمولی باتوں کو بڑا سمجھنے لگ جاتے ہیں اور بعض ایسے ہوتے ہیں کہ اسلام کے لیے ہر ایک تکلیف اور مشکل اُٹھانے کے لیے تیار ہوں گے جان و مال خرچ کر دیں گے اور ہر ایک قربانی کرنے پر آمادہ ہوں گے۔لیکن بعض باتوں کو چھوٹا اور معمول سمجھ کر ان کی طرف توجہ نہیں کریں گے۔کئی ایسے ہی انسان ڈاڑھیاں منڈا ئیں گے یا اور اسی قسم کی کوئی بات کریں گے حالانکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی معرفت جہاں شریعیت کے دوسرے احکام پہنچے ہیں وہاں آپ ہی نے ڈاڑھی رکھنے کا بھی حکم فرمایا ہے لیک تو احکام کی تفصیل پر نظر کرنے کے لیے ضروری ہے کہ اس بات کو مد نظر رکھا جائے اور چھوٹائی بڑائی کا انحصار اس پر نہ رکھا جائے کہ فلاں مولوی یا صوفی نے فلاں فعل کو بڑا قرار دیدیا ہے اس لیے وہ بڑا ہے یا فلاں کو چھوٹا قرار دیا ہے اس لیے وہ چھوٹا ہے بلکہ اپنی طبیعت کو دیکھے کہ کس کام کے کرنے کی طرف میری طبیعت مائل ہوتی ہے اور کسی کی طرف نہیں لیکن اگر ایسا فعل ہے جس کو چھوٹا قرار دیا گیا ہے لیکن وہ نہیں کرتا تو اس کے لیے وہ بڑا ہے اور اگر ایک ایسا فعل ہے جسے بڑا قرار دیا گیا ہے مگر وہ اس کو عمل میں لاتا ہے تو وہ اس کے لیے چھوٹا ہے یہیں انسان کو چاہیئے کہ اعمال کی اس تقسیم میں کسی کو صغیرہ اور کسی کو کبیرہ اس لیے نہ قرار دے کہ فلاں مولوی اور فلاں صوفی نے ایسا کیا ہے بلکہ اپنی طبیعت پر غور کرے اور دیکھے کہ کس کس فعل کو میں آسانی سے کر سکتا ہوں اور کس کو مشکل سے میں کو وہ اسانی سے کر سکے وہ اس کے لیے چھوٹا ہے خواہ نماز ہی کیوں نہ ہو اور جس کو مشکل سے کر سکے وہ اس کے لیے بڑا ہے خواہ ڈاڑھی رکھنا ہی ہو۔یہی بات نواہی کے متعلق ہے مثلاً ایک شخص اسے دیکھ دیتا ہے تنگ کرتا ہے نقصان پہنچاتا ہے۔مگر باوجود اس کے اس کی طبیعت خدا کے خوف سے استے قتل کرنے سے بچتی ہے، لیکن ایک اور شخص ہے اسکے ساتھ منس کر بولنا بھی اس کیلئے مشکل ہے اور اکی طبیعت گوارہ نہیں کرتی تو وہ یہ نہ سمجھے کہ قتل گناہ کبیرہ تھا اس سے تو میں بچ گیا ہوں اور سنہیں کر نہ بولنا غیرہ گناہ ہے یہ اگر کر لیا تو کیا ہوا اس کے لیے یہی کبیرہ ہے اور قتل کرنا صغیرہ۔اسی طرح ہر ایک بات کے متعلق لے سنن ابي داؤد كتاب الترجل باب في اخذ الشارب