خطبات محمود (جلد 6) — Page 410
مسلمان ہوئے اور دمبدم ہو رہے ہیں۔پھر ایک جگہ نہیں بلکہ ملکوں ملکوں ہیں۔جس وقت حضرت صاحب نے یہ شعر کہا تھا ہے اک بڑی مدت سے دیں کو کفر تھا کھاتا رہا اب یقیں سمجھو کہ آتے کفر کو کھانے کے دن یہ ایسی ہی بات تھی جیسے کوئی کہے کہ بلی شیر کو کھا جائے گی۔یا چڑیا باز کو شکار کرے گی۔یا بکری بھیڑیے پر حملہ کرے گی، مگر اسلام کا حال ان سے بھی برا تھا۔کیونکہ اگر بلی شیر کو کھا نہیں سکتی۔تو جان تو بچا سکتی ہے۔چڑیا یا پدی باز سے اپنی جان اڑ کر بچا سکتی ہے۔اور بکری بھیڑے سے بچ سکتی ہے۔مگر اسلام تو کفر کے پنجے میں تھا۔اور مسلمان ہر طرف سے گھرے ہوتے تھے۔ان کے لیے کوئی رستہ بیچ نکلنے کے لیے نہ تھا۔ایسے حال میں نہ صرف یہ کہنا کہ اسلام بچ جائیگا بلکہ یہ کہنا کہ نے اب یقیں سمجھو کہ آتے گھر کو کھانے کے دن اور ایسے حالات میں کہنا جب کوئی سامان نہ تھے۔ایک حیران کرنے والی بات تھی۔اس وقت ہماری جماعت کوشش کرتی تھی۔مگر ہماری جماعتیں صرف ہندوستان میں تھیں۔مگر اب کیا سامان پیدا ہوتے ہیں۔انگلستان میں ہماری تبلیغ ہو رہی ہے۔سیلون میں ہماری جماعت ہے عرب میں موجود - اور مصریں بھی جماعت قائم ہو گئی ہے۔اب روس میں بھی لوگ احمدی ہو گئے۔اور امریکہ میں بھی عنقریب لوگ مسلمان ہوں گے۔نئی خوشخبری یہ ہے کہ ہالینڈ کا ایک شخص مسلمان ہوا ہے، تو اس سے یہ بھو کہ ہالینڈ میں بھی انشاء اللہ بڑے پیمانہ پر تبلیغ ہوگی۔اس سے بھی بڑھ کر خوشخبری یہ ہے کہ کئی سو سال سے افریقہ کے بعض خاص علاقوں میں عیسائیت لگی ہوئی تھی اور ہمیں پچیس لاکھ کے قریب لوگ عیسائی ہو گئے تھے۔ان میں ہما را لٹریچر پہنچا۔اب ان کے تعلیم یافتہ لوگوں میں یہ خیال پیدا ہوا کہ ہم جو عیسائی ہوتے تو کیوں ہوتے۔پہلے ہمارا خیال تھا کہ عیسائی ہو کہ ہم کو دنیوی فائدہ ہوگا۔مگر وہ تو ہوا نہیں۔پس اس وقت اگر ہم دنیا کے لیے ہوئے تھے۔تو اب ہمیں سچے دل سے سوچنا چاہیئے کہ اگر واقعی عیسائیت سچا دین ہے تو ہمیں اس پر مضبوط ہو جانا چاہتے۔اور اگر نہیں تو اس کو ترک کر دینا چاہیئے۔اس خیال کے لوگوں نے ایک انجمن بنائی۔جس کے اس وقت پانچ ہزار ممبر ہیں۔ان کے سیکرٹری سے خط و کتابت تھی مفتی صاحب کو افریقہ بھیجنے کی بھی یہی غرض تھی۔مگر امریکہ کی ضروریات زیادہ اہم معلوم ہوئیں۔اس لیے ان کو امریکہ کی