خطبات محمود (جلد 6)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 393 of 580

خطبات محمود (جلد 6) — Page 393

بھی حضرت موسیٰ کی ترقی سے بہت زیادہ ہے۔قرآن کریم میں حضرت موسیٰ کے ساتھیوں کی تعداد کے متعلق آتا ہے " وهُمُ الون" (البقرہ : ۱۳۴) وہ ہزاروں تھے، لیکن ہم تو خُدا کے فضل سے لاکھوں ہیں۔لیکن جماعت کا بھی فرض ہے کہ خدا کے اس فضل کی قدر کرے۔اور اپنے فرض کو محسوس کر کے اپنے اندر ایک تبدیلی پیدا کرے جب تک تبدیلی پیدا نہ ہوگی محض دعوئی سے کچھ نہیں ہو سکتا۔اس وقت ہم اس بیج کی طرح ہیں۔جو دنیا میں خدا کی طرف سے آیا ہے۔اس لیے ہمیں کام کرنا چاہیئے۔پس ہم سب کے لیے ضروری ہے کہ چھوٹے بڑے تبدیلی کریں اور اپنے تئیں ان فضلوں اور انعاموں کے مستحق بنائیں جن کے دروازے کھل رہے ہیں۔حضرت مسیح موعود کا نام چند سالوں میں دُنیا میں پھیل گیا۔اور دنیا کا کوئی گوشہ نہیں۔جہاں آپ کا نام نہ پہنچا ہو۔اس بستی (قادیان کو دیکھو۔اور اس کی شہرت کو دیکھو۔جو حضرت مسیح موعود کے ذریعہ اس کو حاصل ہوئی۔ایک طرف امیر قومیں ہیں ،لیکن ان تمام امیر قوموں پر خدا تعالیٰ نے غرباء کا رعب ڈالدیا ہے۔کجا قادیان کے رہنے والے اور سیالکوٹ اور ہوشیار پور وغیرہ کے زمیندار اور کجا ان کا لندن میں مسجد بنانا۔یہ معمولی بات نہیں۔اور نہ اس کو معمولی بات کہیں گے ،اگر چہ ایک جگہ مسجد بنانا کوئی بڑی بات نہیں، لیکن بڑی اور غیر معمولی بات یہ ہے کہ ان غربامہ کے دل میں یہ خیال پیدا ہوا کہ لندن میں مسجد بنائی جائے۔کولمبس نے امریکہ کو دریافت کیا تو لوگوں نے کہا کہ میمولی بات ہے ہم بھی کر سکتے ہیں سمندر میں بیٹھ کر چلے گئے۔ایک مقام مل گیا۔اس میں کمال ہی کیا ہے۔کولمبس کو جب یہ بات معلوم ہوئی۔تو اس نے ان معترضین کی دعوت کی۔اور ایک انڈا منگوا کر میز پران کے سامنے رکھ دیا۔اور کہا کہ اس کو سیدھا کھڑا کر دو۔وہ اس کو نہ کھڑا کر سکتے۔تو اس نے کہا۔لاؤ میں اس کو کھڑا کرتا ہوں۔اس نے سوئی سے انڈے میں سوراخ کر کے اس سے جو مادہ نکلا اس کے ساتھ کھڑا کر دیا۔اور کہا کہ جس طرح اب تم کو انڈا کھڑا کر نے کا موقع ملا۔مگر تم کھڑا نہ کر سکے۔اسی طرح اگر تم کو امریکہ کی تلاش کرنے کا موقع ملتا ھی۔تو م نہ کرسکتے اور میں امریکہ میں گیا اور تم نہ گئے۔پین در حقیقت لندن میں مسجد بنانے کی ابتدا کرنے کی جس نے جرات کی۔وہ ہماری جماعت ہی ہے اب اگر اور لوگ اس طرف لگ جائیں تو کوئی بات نہیں۔کیونکہ ابتدائہ سرا ہمارے ہی سر ہے۔کیونکہ فضیلت اسی کو ہوتی ہے جس کے دل میں ایک خیال پہلے آئے۔اور وہ اس پر عمل شروع کر دے۔سینکڑوں سال سے لوگوں کے پاس اسلام تھا۔مگر وہ تو اس کو چھپاتے تھے۔اور اس کو ظاہر کرتے ہوئے ڈرتے تھے کہ اگر ہم نے ظاہر کیا تو لوگ کیا کہیں گے لیکن مرزا صاحب ہی پہلے شخص تھے جنہوں نے کہا کہ اسلام وہ اتوار