خطبات محمود (جلد 6)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 385 of 580

خطبات محمود (جلد 6) — Page 385

۳۸۵ یہ حالت ہوتی ہے کہ اگر ان کی گالی کے جواب میں کوئی شخص ان کو گالی دے تو وہ کہتے ہیں کہ ہم نے گالی دیدی تو خیر دیدی مگر اس نے کیوں دی۔مگر مذہب نے اس طرف متوجہ کیا کہ دوسروں کے احساسات کو اپنے احساسات و جذبات کی نسبت اہم وقیمتی یقین کرو۔پھر اس سے بھی ترقی کرو۔اور افراد کے فوائد کو جماعت کے فوائد پر قربان کر دو اور جماعت کی ضروریات کے مقابلہ میں اپنی ضروریات کو رائی کے برابر قدر و اہمیت نہ دو۔اور جماعت کے فوائد کے مقابلہ میں زید و بکر اپنے فوائد کو قربان کر دیں۔یہ قاعدہ ہے کہ انسان اپنی ضروریات کے مقابلہ میں دوسرے کی ضروریات کا اندازہ کرتے وقت دھوکہ کھا جاتا ہے۔اس لیے چاہیئے کہ اپنے فوائد کو دوسرے میں ترجیح نہ دے۔مگر جہاں جماعت کے فوائد کا سوال آجائے۔وہاں اپنے فوائد کو مقدم کرنا جرم ہے۔قریب ہے کہ اس سے اتحاد ٹوٹ جائے۔اور کام ٹکڑے ٹکڑے ہو جاتے اور جماعتیں معدوم ہو جائیں۔جماعت کیا ہوتی ہے ہیں کہ چند افراد اقرار کرتے ہیں کہ وہ سب اپنے اپنے فوائد کو جماعت کے فوائد پر قربان کر دینگے۔اگر ایسانہ ہو تو کوئی جماعت جماعت نہیں کہلا سکتی۔مسلمانوں کو اسی بات کے نہ ہونے نے کھویا۔ایک وقت میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلمنے فرمایا کہ مسمانوں کی مردم شماری کی جائے جب مردم شماری کی گئی۔تو معلوم ہوا کہ سات سو ہیں۔صحابہ نے اس وقت عرض کیا، کہ یا رسول اللہ اب ہمیں کون برباد کر سکتا ہے۔اب تو ہم خدا کے فضل سے سات سو ہو گئے ہیں۔اس وقت سات سو مسلمانوں نے خیال کیا کہ اب ہمارا تمدن اور اتحاد و اتیار ایسا ہوگیا ہے کہ دنیا کی کوئی طاقت ہمیں گزند نہیں پہنچا سکتی۔مگر آپ کہ یورپ کے اندازے کے مطابق مسلمانوں کی تعداد میں کروڑ ہے۔اور خود ملکان اپنی تعداد چالیس کروڑ بتا رہے ہیں۔مگر حال یہ ہے کہ اس وقت سات سو تھے۔ان کو دنیا کی کوئی طاقت واقعی نہ مٹا سکی۔لیکن اب کہ چالیس کروڑ ہیں۔جواُٹھتا ہے۔ان کو مٹا دیتا ہے۔اس سے ظاہر ہے کہ وہ سات سو ، چالیس کروڑ سے بھی زیادہ تھے۔اور چالیس کروڑ ان میں سے ایک کے بھی برابر نہیں۔اس کی کیا وجہ تھی۔یہی کہ ان سات سو میں سے ہر ایک اپنے آپ کو سات سو کے لیے قربان کرنے کو تیار تھا اور قربان کر دیتا تھا۔مگر اب ہر ایک کی یہ خواہش ہوتی ہے کہ وہ چالیس کروڑ کو اپنی اُمنگ پر قربان کر ڈالے اب ان چالیس کروڑ کی مثال ایسی ہی ہے۔جو ایک مٹی کا کھلونا ہو جو چاہے ذرا سی ٹھوکر سے اس کو ٹکڑے ٹکڑے کر دے کیونکہ ان میں کوئی بھی نہیں جو اپنے فوائد کو جماعت کے فوائد پر قربان کر دے۔لے مسلم کتاب الایمان باب جواز الاستمرار للخائف