خطبات محمود (جلد 6)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 329 of 580

خطبات محمود (جلد 6) — Page 329

۳۲۹ دیکھو ایمان لانے میں حضرت ابو کبیر اور ان کے بعد والے برابر ہیں، لیکن پھر بھی ایک بہت بڑا فرق تھا۔اور وہ یہ کہ حضرت ابو بکر نہ اس وقت ایمان لاتے جس وقت ہر طرف مشکلات ہی مشکلات تھیں ، لیکن ان کے ایمان لانے کے بعد جب لوگوں نے دیکھا کہ وہ باوجود تمام مشکلات کے بازاروں میں زندہ و سلامت پھرتے ہیں۔تو کئی اور لوگ جو دل میں مانتے تھے۔مگر اظہار کی جرات نہ رکھتے تھے۔انہیں حضرت ابو بکر نہ کو دیکھ کر قبول حق کی توفیق ہوئی۔وہ وقت نہایت مشکلات کا تھا۔اور نہایت خطرناک۔حضرت ابو بکر ان تمام مشکلات سے واقف تھے۔اور جانتے تھے کہ میں کچلا جاؤں گا۔مگر ان مشکلات کے علم کے باوجود ان کا ایمان لانا تمام لوگوں پران کی فضیلت کو ثابت کرتا ہے۔اور اس طرح وہ لوگوں کے لیے حتی کے قبول کرنے کا ایک ذریعہ ہو کر ان کے لیے بطور ایک استاد کے ہو گئے ہیں جس طرح رسول کریم حقیقی اسوہ میں اسی طرح آپ کی اعلیٰ اتباع سے ابو بکر بھی لوگوں کے لیے بطور ایک اسوہ کے ہو گئے۔تو ان لوگوں کا جو ابتدا میں ایمان لاتے ہیں۔ایک احسان دوسروں پر ہوتا ہے۔جوان کی قدر نہیں کرتا۔وہ خدا کے احسان کی قدر نہیں کرتا۔بلکہ خدا کے احسان کی ناقدری کرتا ہے۔اس لیے ان لوگوں کے متعلق بہت احتیاط سے کام لینا چاہیتے اور ان کے درجہ اوران کی عزت کو مجھنا چاہتے۔دیکھو رسول کریم ال لا لا لا الہ کا حکم فرماتے کہ پہلی صف میں امام کے پیچھے کوئی بڑا آدمی کھڑا ہو تاکہ ضرورت کے وقت امام کی قائم مقامی کر سکے یا پھر بعض لوگوں کو اپنی محلس میں جگہ دلواتے۔اور بعض دفعہ اگر کوئی شخص جو دنیا وی لحاظ سے صاحب وجاہت ہوتا۔آپ کی مجلس میں آتا تو آپ فرماتے کہ اٹھو اور اس کا استقبال کرو یہ پس یہ شریعت کا حکم ہے۔جو جس رتبہ کا ہو۔اس کا اس کے مرتبہ کے مطابق احترام کیا جائے مگر بہت ہیں۔جو اس بات کی پروا نہیں کرتے جس کا بہت برا نتیجہ ہوتا ہے۔مثلاً شیعہ اور خوارج ہیں۔جو صحابہ کو برا کہتے ہیں جس کا نتیجہ یہ ہے کہ باوجود مسلمانوں میں آپس میں سخت تفرقہ ہونے کے تمام فرقوں میں اولیا- گذرے ہیں جنفی مالکیوں کو برا کہتے ہیں اور مالکی حنفیوں کو ، لیکن ان میں اولیا۔اللہ ہوتے ہیں۔لیکن یہ شیعہ گیارہ سو سال سے علیحدہ ہوتے ہیں۔انہوں نے خدا کے برگزیدوں کو بر ما گالیاں دینا شروع کی ہیں۔ان میں اس ہزار سال کے عرصہ میں ایک بھی ولی اللہ پیدا نہیں ہوا۔اور اسی وجہ سے انہیں اپنے ایک امام کو مخفی کہنا پڑا کہ اسکے ہوتے ہوئے کسی سے مسلم بروایت مشکواة كتاب الصلواة باب تسوية الصف نے سیرت ابن ہشام جلد ٢ حالات غزوہ خندق تے