خطبات محمود (جلد 6) — Page 296
۲۹۶ بھی کر دیتے ہیں۔باوجود ان باتوں کے ان کو ہم سے حسد ہے۔اس لیے جہاں ہمارے آدمی جاتے ہیں کہ لوگوں کو احمدی بنائیں۔وہ کوشش کرتے ہیں۔کہ لوگ احمدی نہ ہوں اور ان کو ورغلاتے ہیں۔اور ان کو روکنے کی کوشش کرتے ہیں ہیں اسی خیال نے ان کو خراب کیا کہ وہ مساوات کے طالب تھے۔حالانکہ یہ مساوا نہ تھی۔بلکہ حسد تھا۔خوارج بھی یہی کہتے تھے کہ خلیفہ کون ہوتا ہے۔اس کو کیا حق ہے کہ وہ ہم سے بڑا کہلاتے۔الحُكُمُ لِلهِ وَالأَمْرُشُورَى بَيْنَنَا۔یہ بات تو سچ تھی، مگر انہوں نے اس سے غلط نتیجہ نکالا۔پس حسد ایک بُرا مرض ہے۔اس سے بچو۔اور یاد رکھو کہ اسلام مساوات کا مخالف نہیں۔بلکہ متونید ہے لیکن عام لوگ جس کو مساوات کہتے ہیں۔وہ حسد ہے اور اسلامی مساوات ایک پاک چیز ہے جس کا مقابلہ دنیا کی اور کوئی تعلیم نہیں کرسکتی " الفضل ٣ ستمبر ١٩١٩ ۱۹۱