خطبات محمود (جلد 6)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 239 of 580

خطبات محمود (جلد 6) — Page 239

۲۳۹ وسیع علم ہے مگر بعض لوگ باوجود اس کے پڑھنے کے پھر بھی مال خرچ کرنا نہیں جانتے۔غرض وقت کی قربانی جب تک آدمی نہ کرے، اس وقت تک اس کو معلوم نہیں ہو سکتا۔اور اس کی سمجھ میں یہ قربانی نہیں آ سکتی ہاں جو شخص اپنی آرزو ؤں کو قربان کرتا ہے۔ایک خاص مقصد کے حصول کے لیے اسکو معلوم ہوتا ہے کہ وقت کا قربان کرنا کتنا بڑا کام ہے۔ایک شخص بغیر ارادے کے سارا دن ایک جگہ بیٹھ سکتا ہے مگر جب کہا جائے کہ یہاں بیٹھ کر اتنی دیر کسی کا انتظار کرو تو اگر اس سے دس منٹ بھی دیر ہو جاتے تو وہ لڑنے کو تیار ہو جاتے گا کہ اتنی دیر لگا دی۔یوں تو سارا دن اسی طرح گذرتا ہے جس طرح ریت مٹھیوں سے گزر جاتی ہے، لیکن کسی خاص مقصد کے لیے دوسرے اشغال کو چھوڑ نا مشکل ترین کام ہے۔جتنی بڑی چیز ہو اتنا ہی زیادہ وقت اس کے لیے قربان کرنا پڑتا ہے۔اور چیزوں کی بڑائی پھٹاتی قربانیوں کی بڑائی چھٹاتی ہی کا نام ہے۔پھر کسی بڑے مقصد کے حاصل کرنے کے لیے صرف بڑی قربانیوں کی ہی ضرورت ہوتی ہے۔بلکہ صیح طریق سے قربانیاں کرنے کی ضرورت ہوتی ہے۔یہ نہیں کہ علم حاصل کرنے کے لیے دس میں یا سو بکرے ذبح کر دیتے جائیں اور علم حاصل ہو جاتے۔بلکہ اس کے لیے قربانیاں ہوں اور اس کے مناسب قربانیاں ہوں تو مقصد حاصل ہوتا ہے۔۔دیکھو انسان کی زندگی کے قیام کے لیے کس قدر قربانیوں کی ضرورت ہوتی ہے ، غلہ قربان ہوتا ہے پانی خرچ ہوتا ہے۔ہوا قربان ہوتی ہے۔روپیہ قربان ہوتا ہے۔تب جا کر ایک وجود ہلاکت سے بچتا ہے۔پھر بچوں کی تربیت کے لیے جس قدر زیادہ قربانی کی جائے۔اسی قدر وہ بڑے بنتے ہیں۔بڑے بننے کے یہ معنی نہیں کہ وہ جسمانی طور پر بڑے ہوتے ہیں۔بلکہ یہ کہ اچھی تربیت سے وہ شریف ہوتے ہیں۔اور ملک اور قوم کے لیے مفید اور مذہبی طور پر نیک اور صالح ہوتے ہیں، لیکن اگر کوئی شخص اپنے بچوں کی تربیت کے لیے اپنے وقت اور آرام کی قربانی نہیں کرتا۔اور اس بات کا کچھ خیال نہیں کرتا کہ اس کے بچے کہیں آوارہ ہو کر پھرتے رہیں۔تو اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ اس کے بچے قوم کے لیے کوئی مفید وجود ثابت نہیں ہو سکتے۔اور نہ خود کوئی بڑائی حاصل کر سکتے ہیں۔اور پھر وہ لوگ جو اپنے لیے آپ قربانیاں کرتے ہیں۔وہ بھی بہت بڑے درجے پاتے ہیں۔مثلاً ہمارے آنحضرت صلی اللہ علیہ سلم کے لیے آپ کے ابتدائی زمانہ میں کسی نے اپنے وقت۔اپنے آرام۔اپنے مال کی قربانی نہیں کی آپ ابھی شکم مادر میں ہی تھے۔کہ باپ فوت ہو گئے۔پھر ابھی ننھے بچے ہی تھے کہ ماں فوت ہوگئیں۔اور ذرا ہوش سنبھالا تھا کہ دادا کا انتقال ہو گیا۔مگر آپ نے اپنے لیے اور اپنے نفس کی اصلاح اور دنیا کی بھلائی کے لیے وہ وہ قربانیاں کیں کہ جن کے نتائج آج ساری دنیا دیکھ رہی ہے۔