خطبات محمود (جلد 6) — Page 170
ہوگا کہ پندرہ بیس دفعہ کسی غیر معمولی وجہ سے گھر میں آنا جانا ہوتو ہو ورنہ عام طور پر دوتین دفعہ سے زیادہ نہیں لوگ آتے جاتے اور دس پندرہ بار سے کسی صورت میں بھی زیادہ نہیںاور بعض لوگ کئی کئی دن ناغہ کرتے ہیں۔باوجود اس کے پھر بھی کوئی اپنے گھر کا رستہ کبھی نہیں بھولتا۔جس رستہ پر روزانہ پچاس دفعہ گزرنا پڑے اُس کو اگر انسان بھولے تو اس کا یہی مطلب سمجھا جائیگا کہ وہ سوتے میں گزرا کرتا تھا۔بعض لوگوں کو مرض ہوتا ہے کہ وہ سوتے سوتے اپنی چارپائی پر سے اُٹھ کر گھر سے نکل کھڑے ہوتے ہیں اور بعض اوقات نہایت خطرناک مقام پر پہنچ جاتے ہیں۔جہاں سے اگر گھر والوں کو پتہ لگ جائے تو پکڑ لاتے ہیں، لیکن جب صبح کو بیدار ہونے پر انھیں بتایا جائے کہ تم اس طرح اُٹھ کر چلے گئے تھے اور وہاں پہنچ گئے تھے تو وہ تعجب ہو کر یہ پوچھتے ہیں کہ اچھا یہ بات ہے۔اسی طرح بعض بچے سوتے سوتے چیخ مار کر اُٹھ بیٹھتے ہیں۔پھر ان کو لٹا دیتے ہیں اور وہ بیٹتے ہی خراٹے مارتے سو جاتے ہیں ہیں۔جو انسان سونے کی حالت میں کسی رستہ پر سے گزرے وہ اس کو یاد نہیں رہتا، لیکن جو شخص جاگنے کی سکتا حالت میں کسی رستہ پر چلے وہ اس کو کسی طرح بھی نہیں بھولنا۔خواہ ایک دفعہ گزرے یا پچاس دفعہ۔پس اس طرح ایک مسلمان سورہ فاتحہ کی دعا اهدنا الصراط المستقيم روزانہ پچاس دفعه کرتا ہے۔قانونِ قدرت کے ماتحت ایک جاگتا ہوا انسان کسی طرح اس کو نہیں بھول سکتا۔کیونکہ اگر ایک انسان کوئی کام روزانہ چار پانچ دفعہ کرے تو وہ اس کے خیال میں ہر وقت رہے گا، لیکن جو کام پچاس دفعہ کیا جائے۔وہ کبھی بھول نہیں سکتا۔اگر اس کو جاگنے کی حالت میں کیا جائے۔مثلاً ایک شخص دو دفعہ دن میں کھاتا ہے تو یہ کھانا اس کے ذہن سے کسی طرح فراموش نہیں ہو یا مثلاً ایک شخص گورنمنٹ میں درخواست کرتا ہے کہ مجھ کو ملازمت دی جائے۔اور جب اس کی درخواست منظور کی جائے تو کبھی نہیں کہے گا کہ میں نے درخواست نہیں کی تھی۔آج کل مربعے فروخت ہوتے ہیں۔اگر کوئی زمیندار درخواست کرے اور اس کی درخواست منظور ہو جائے تو کبھی وہ زمیندار نہیں کیا کہ میں نے درخواست نہیں کی تھی۔پس اگر لوگ اپنی ایک دفعہ کی درخواست کو نہیں بھولتے تو جب پچاس دفعہ خدا کے حضور درخواست کرتے ہیں اور پھر اس کی قبولیت کے آثار ظاہر ہوتے ہیں توکیوں انکار کمر دیتے ہیں۔وہ دعا کرتے ہیں اور پہچاس دفعہ دعا کرتے ہیں کہ خدایا ہمیں ہدایت دے اور خدا تعالیٰ ہزاروں دفعہ ان کے لیے ہدایت کے سامان مہیا کرتا ہے۔وہ مانگ کر مسجد سے نکل رہے ہوتے ہیں کہ خدا تعالیٰ کے ہدایت دینے کے عمل ان کے لیے جاری ہو جاتے ہیں ، لیکن وہ ان کو قبول کرنے کی بجائے انکار کر دیتے ہیں کہ ہم نے تو ہدایت طلب ہی نہ کی تھی۔گویا کہ نعوذ باللہ انھوں نے خدا تعالیٰ کو بھی ایک بچہ سمجھ لیا ہے