خطبات محمود (جلد 6) — Page 171
جیسا کہ عام طور پر لوگ بچوں سے کیا کرتے ہیں کہ بچہ کو ہاتھ بڑھا کر لینا چاہتے ہیں لیکن جب وہ ہاتھ پھیلا کر آنا چاہتا ہے تو اپنے ہاتھ پرے ہٹا لیتے ہیں۔یا اس کی ماں کو دینا چاہتے ہیں۔جب وہ لینے کے لیے بڑھتی ہے تو اس کو نہیں دیتے اور خوش ہوتے ہیں۔اسی طرح لوگوں نے خداتعالی کو سمجھ لیا ہے کہ بار بار اس سے مانگتے ہیں جب وہ دیتا ہے تو انکار کر دیتے ہیں۔کہ ہم نے تو نہیں مانگا۔سوال ہوسکتا ہے کہ ہم کیسے یقین کرسکتے ہیںکہ جو کچھ میں دیا جاتا ہے۔وہ ہماری دعا کے نتیجہ میںہوتا ہے اس کے معلوم کرنیکا آسان اور نہایت سہل طریق یہ ہے کہ جب کوئی شخص کسی کے دروازے پر جاتا ہے اور دروازے کو کھٹکھٹاتا ہے تو کیا دروازے کے کھلنے کا انتظار کرتا ہے یا نہیں۔اسی طرح جب وہ اپنے کسی دوست کو خط بھیجتا ہے یا سرکار میں کوئی درخواست دیتا ہے، تو ہر ڈاک میں اس کے جواب کا انتظار کرتا اور ڈا کیسے سے بار بار پوچھتا ہے یا نہیں۔اسی طرح جب وہ پانچ وقت میں متعدد بار خدا تعالیٰ کے حضور در خواست پیش کرتا ہے تو اس کو اپنے ہر ایک کام میں خواہ وہ تجارت سے تعلق ہو یا زراعت سے یا کسی اور فن یا پیشہ سے خیال کرنا چاہیئے کہ کیا اس کام کے تعلق میری درخواست کا جواب آیا ہے۔یا نہیں۔پس جب تمہارے سامنے کوئی کام ہو تو غور کرو کہ کیا اس میں ہماری درخواست اهدنا الصراط المستقیم کا جواب ہے یا نہیں لیکن تعجب ہے کہ لوگ خدا تعالیٰ سے درخواست کرتے ہیں اور بار بار درخواست کرتے ہیں مگر اس کو یاد نہیں رکھتے۔بلکہ بھلا دیتے ہیں کیونکہ حسب روزانہ ان کی درخواست قبول کی جاتی ہے تو اس سے انکار کر دیتے ہیں کہ ہم نے تو درخواست ہی نہیں کی تھی۔جیسا کہ یں نے بتایا کہ ہیلوگ خدا تعالے کے ساتھ بھی بچوں والا معامہ کرتے ہیں مانگتے ہیں جب وہ دیتا ہے تو مکر جاتے ہیں ہیں جو لوگ خدا سے یہ معاملہ کرتے ہیں وہ نہایت خطرناک حالت میں ہیں کیونکہ خدا سے ہنسی کرنا انسان کو ہلاک کر دیتا ہے اور تمام نعمتوں اور برکتوں سے محروم کر دیتا ہے۔چاہیئے کہ جب ایک انسان دعا کرتا ہے تو وہ خدا تعالیٰ کے فضلوں کو قبول کرے اور ان آسمانی برکات کو رد کرنے کی کوشش نہ کرے۔بعض لوگ کہیں گے کہ یہ کیسے ہو سکتا ہے اور یہ کیونکر ممکن ہے کہ ایک انسان خدا تعالیٰ کے فضلوں کو رد کرے مگر یہ واقعہ ہے اور ایسا ہوتا ہے اور روزانہ ہوتا ہے کہ انسان لہو و حب میں پڑ کر اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کو رد کر دیتے ہیں اور ان کو پتہ بھی نہیں لگتا کہ ہم خدا کی کسی نعمت کو رد کر رہے ہیں۔لعب حد غور کرو پہلی قوموں نے خدا کی نعمتوں کو رد کیا اور وہ ایسی شان و شوکت والی تو میں تھیں جس کی کچھ نہیں مگر انھوں نے خدا کے فضلوں کے دروازوں کو اپنے اوپر بند کر لیا اسی طرح تم بھی بند کر سکتے توب