خطبات محمود (جلد 6) — Page 105
۱۰۵ ان کے نام کے ساتھ خان بہادر نہ کھا جائے یا نہ بولا جائے تو وہ کہیں گے کہ تمہیں اتنی بھی تمیز نہیں کہ کسی کا پورا نام لو تو اب یہ خان بہادر ان کے نام کا جزہ ہو جاتا ہے۔حالانکہ خان بہادری کی جو حقیقت ہے وہ ان میں تحقیق نہیں ہوتی۔بعض لوگ اپنے بچوں کا نام ہی خان بہادر رکھ لیتے ہیں۔چنانچہ حضرت مولوی صاحب (خلیفہ اول رضی اللہ عنہ فرمایا کرتے تھے کہ ہماری ایک رشتہ دار عورت نے اپنے بچہ کا نام خان بهادر" رکھا۔میں نے اس سے کہا کہ یہ نام تو نے کس لیے رکھا ہے۔اس نے کہا کہ ہمارے ناں رشتہ دار کو سرکار سے " خان بہادر" کا خطاب ملا ہے۔میں نے خیال کیا کہ ممکن ہے بڑے ہو کر اس کو یہ خطاب ملے یا نہ ملے۔اس لیے میں نے اس کا نام ہی خان بہادر رکھ دیا۔کیونکہ اگر لوگ اس خطاب یافتہ کو خان بہادر کہیں گے تو یہ بھی خان بہادر ہی کہلائے گا پیس جو لوگ گورنمنٹ سے خطا با نبہادری کا حاصل کرتے ہیں۔ان میں سے بہت میں خان بہادری کی کوئی بات نہیں ہوتی۔اسی طرح بعض لوگوں کا نام ہوتا ہے شیر خان" حالانکہ وہ بکری سے بھی کمزور دل ہوتے ہیں۔یا کسی کا نام ہوتا ہے محمد تقی مگر اس جیسا شقی ملنا مشکل ہوتا ہے کہیں بہت سے نام اور تعریفیں ہوتی ہیں جو حقیقت سے علیحدہ ہوتی ہیں۔پس بہت سے لوگ تعریف حاصل کرنے کے لیے بہت کوشش کرتے ہیں مگر بہت دفعہ ایسا ہوتا ہے کہ تعریف تو ان کو حاصل ہو جاتی ہے، لیکن وہ جھوٹی تعریف ہوتی ہے جس سے وہ دل میں شرمندہ ہوتے ہیں۔مثلاً جو شخص در حقیقت بزدل ہو اس کو اگر بہادر کہا جائیگا۔تو اس کے جسم پر ضروری آ ہی جاتی ہوگی۔عربی زبان میں جو ام الا لسنہ ہے اور خداتعالے نے ابتدائے آفرنیش میں انسانوں کو بذریعہ اپنے المام کے تعلیم کی تھی تا کہ وہ اپنا مدعا ایک دوسرے سے کہ سیکیں اس میں سچی تعریف اور جھوٹی تعریف میں فرق کیا گیا ہے۔یعنی تعریف کے لیے دو لفظ ہیں۔ایک مدرح دوسرا حمد ماری تو وہ ہے کہ اس میں سچی اور جھوٹی دونوں قسم کی تعریفیں آسکتی ہیں۔اگر کوئی کمزور ہو، بزدل ہو جاہل ہو تو ان کی مدح میں شہ زور بہادر - عالم کہہ سکتے ہیں۔مگر سچی تعریف کے لیے مدح کا لفظ کبھی نہیں لائیں گے۔وہاں حمد ہوگا جو کزور کو شہ زور۔بزدل کو بہادر اور جاہل کو عالم کہتا ہے۔وہ اس کی مدح کرتا ہے۔نہ کہ حمد تو یہ لوگ ممدوح ہونگے محمود نہیں ہونگے۔عربی زبان میں شاعر جو تعریف کر دیگا اس کو مدرج کہیں گے حمد نہیں کہیں گے۔کیونکہ اکثر شاعر تعریف میں مبالغہ بھی کیا کرتے ہیں، لیکن جہاں واقعات نفس الامر ہی سے کسی کی تعریف کی جائیگی۔تو وہ اس کی حمد ہوگی۔پس یہ فرق ہے جو عربی زبان میں سچی اور جھوٹی تعریف