خطبات محمود (جلد 6) — Page 106
میں رکھا گیا ہے۔سورہ فاتحہ میں الہ تعالیٰ نے تعریف کی طرف توجہ دلاتی ہے۔تعریف کبھی تو افعال کا نتیجہ ہوتی ہے یعنی اچھے کام اس لیے کئے جاتے ہیں کہ لوگ تعریف کریں اور کبھی اچھے کام تو کئے جاتے ہیں مگر ان میں یہ خواہش نہیں ہوتی۔کہ لوگ تعریف کریں گے۔مگر چونکہ وہ کام اچھے ہی ہوتے ہیں بغیران کی خواہش کے بھی لوگ ان کی تعریف کرتے ہیں۔مثلاً کوئی شخص ڈوبتے کو بچاتا ہے اور اس کی خواہش ہے کہ لوگ اس کے اس فعل کی تعریف کریں۔تو خواہش تو اس کی پوری ہو جائیگی۔گو یہ تعریف کچھ اچھی تعریف نہیں ہوگی۔مگر ایک دوسرا ہے جو کسی کو ڈوبتا دیکھتا ہے اور وہ اس کو بچانے کے لیے اپنی جان کو خطرہ میں ڈال دیتا ہے مگر اس کی کوئی خواہش نہیں ہوتی کہ لوگ اس کی تعریف کریں۔یا کوئی شخص غریبانہ میں رو پی ایس لیے تقسیم کرتا ہے کہ لوگ اس کی تعریف کریں اور دوسر وہ ہے جو بغیر تعریف کی خواہش کے غرباء میں ویہ تقسیم کرتا ہے۔تو اُن میں ایک کا فعل محمود ہوگا۔دوسرے کا مذموم - پس انسان تعریف کے لیے کوشش کرتا ہے کبھی تو وہ تعریف مذموم ہوتی ہے کبھی محمود۔پھر کبھی وہ تعریف مدح ہوتی ہے کبھی حمد حقیقی خوشی انسان کو اگر حاصل ہو سکتی ہے توحید میں ہو سکتی ہے ور نہ مذرح میں تو شرمندہ بھی ہونا پڑتا ہے۔اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتا ہے الحمد لله رب العالمین تعریف کے حصول کے لیے تم دنیا میں بہت بہت کوششیں کرتے ہو مگر جس رنگ میں بھی تمہاری کوششیں ہوں ان کا نتیجہ ممکن ہے۔حمد نہ ہو اور جو تعریف حاصل ہو وہ مذموم ہو سچی تعریف کے حصول کا ذریعہ ہم تمہیں بتاتے ہیں۔فرمایا الحمد لله رب العالمین۔(1) سب سچی تعریفیں خدا کے لیے ہیں۔(۲) سچی تعریفیں خدا سے آتی ہیں۔جو تعریف خدا کی طرف سے نہ ہو وہ حمد نہیں ہو سکتی سب حمدیں اللہ کے قبضہ میں ہیں۔پس ایک ہی ذریعہ ہے جس سے تم بھی تعریف اور حمد حاصل کر سکتے ہو۔وہ یہ کریں کے پاس کچی تعریفیں ہیں جس کے قبضہ میں تمام حمدیں ہیں۔اس سے مانگو جس کے پاس ہوگا وہی کچھ دیگا۔جس کے پاس کچھ بھی نہیں ہوگا وہ کیا دیگا پس تمام خوبیاں تمام سیتی تعریفیں تو خدا کے پاس ہیں کیوں نہ انسان اس سے مانگے تاکہ اس کو دیا جائے۔جو لوگ خدا کو چھوڑ کر اوروں سے مانگتے ہیں۔ان کو کچھ نہیں مل سکتا۔کیونکہ سچی تعریفیں تو خدا کے سوا کسی کے پاس نہیں ہیں۔اس کی ایسی ہی مثال ہے کہ کسی شخص کو جوتے کی ضرورت ہو تو قصائی کے پاس چلا جائے اور گوشت کی ضرورت ہو تو بزاز کے پاس یا زمیندار کے پاس چلا جائے۔ان سے اس کو کچھ نہیں لے گا۔وہ اس کو پاگل شمار کریں گئے اور یہی میں اُڑاتے رہیں گے۔