خطبات محمود (جلد 5) — Page 70
خطبات محمود جلد (5) ہوگا۔مگر بہت ہیں جو کسی انسان کے قتل کرنے کی دلیری نہیں کریں گے اور ۹۹ فیصدی ایسے ہوں گے کہ جب ان کو قتل کرنے کی ترغیب دی گئی ہو تو ان کے دل دھڑ کنے لگ جائیں اور کپکپی شروع ہو جائے۔مگر اس کے مقابلہ میں کتنے افسوس کی بات ہے کہ ایسے بہت کم انسان ملیں گے جو زندہ قوموں کے مارنے سے ڈریں حالانکہ اس فعل کی سزا انہیں بہت ہی بڑھ کر ملے گی۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ سوئے ہوئے فتنے کو جگانے والے پر خدا کی لعنت ہو۔ایک زمانہ میں فتنہ بھی سو جاتا ہے۔جس طرح نور اور ظلمت اکٹھے نہیں ہو سکتے جہاں ظلمت ہوگی وہاں نور نہیں ہوگا۔اور جہاں نور ہوگا وہاں ظلمت نہیں ہوگی۔اسی طرح جس وقت خدا تعالیٰ کا نور کسی قوم کو زندہ کرتا ہے تو اس وقت ظلمت یعنی فتنہ سو جاتا ہے اور فتنہ اس وقت جاگتا ہے کہ جب اس کا مقابلہ کرنے کے لئے نور موجود نہیں ہوتا۔اور جب نور موجود ہو خواہ کتنا ہی تھوڑا ہو اس وقت ظلمت مقابلہ پر نہیں ٹھہر سکتی تو سوئے ہوئے فتنہ کو جگانے سے یہی مراد ہے کہ جب کوئی نبی آتا ہے اور ایک ایسی جماعت تیار کر جائے جو راستی اور حق قائم کرنے والی ہوتی ہے تو فتنہ سو جاتا ہے۔ایسے وقت میں بعض لوگ اس جماعت کو پراگندہ کرنے کی کوشش کرتے ہیں اور یہی سوئے ہوئے فتنہ کو جگانا ہے۔اسی کے متعلق آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ اس زمانہ میں فتنہ سویا ہوا ہے اب اگر کوئی اسے جگائے تو اس پر خدا کی لعنت ہو۔آپ نے اس کے لئے یہ بددعا کی ہے۔حدیثوں سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ نہ کسی کو گالی دیتے تھے اور نہ کسی پر لعنت بھیجتے تھے۔لے پس جب آپ نے ایسے شخص پر لعنت کی ہے تو معلوم ہوا کہ وہ بہت ہی خطر ناک گناہ گار ہے۔تو فتنہ کے جگانے والا اور زندہ قوموں کے مارنے والا بہت ہی خطر ناک انسان ہے۔مسلمانوں کی اس وقت کی حالت دیکھو کیسی تاریک ہے۔مساجد میں اول تو کوئی داخل ہی نہیں ہوتا اور اگر ہوں تو چھوٹی چھوٹی باتوں پر ایسے فساد اور جھگڑے ہوتے ہیں کہ خدا کی پناہ۔التحیات میں اگر کوئی انگلی اٹھاتا تو اس کی انگلی توڑ دی جاتی۔اگر کوئی آمین بالجبر کہتا ہے تو اس کی شامت آجاتی۔مارنے لگ جاتے ہیں ل بخاری بحواله مشکوۃ باب فی اخلاق النبي صلى الله علیه و آله و سلم بخاری کتاب الادب باب لم يكن النبي صلّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاحِشًا ولا مُتَفَحِشًا -