خطبات محمود (جلد 5) — Page 60
۶۰ 9 خطبات محمود جلد (5) ترقی اسلام کیلئے کثرت سے دُعائیں کرو (فرموده ۱۷ مارچ ۱۹۱۶ء) تشہد وتعو ذاور سورہ فاتحہ کے بعد مندرجہ ذیل آیت پڑھ کر فرمایا :- وَإِذَا سَأَلَكَ عِبَادِى عَنِى فَإِنِّي قَرِيبٌ أُجِيبُ دَعْوَةَ الدَّاعِ إِذَا دَعَانِ فَلْيَسْتَجِيبُوا لِي وَلْيُؤْمِنُوا بِي لَعَلَّهُمْ يَرْشُدُونَ (البقره: ۱۸۷) جن جماعتوں کا کام تبلیغ ہوتا ہے اور جو اپنے ذمہ خدا تعالیٰ کا پیغام دنیا کو پہنچا نا لیتی ہیں۔ان کے کام سے زیادہ مشکل کام دنیا میں اور کوئی نہیں ہوتا۔کسی بات کے متعلق ہر ایک انسان اپنے علم۔طاقت اور محنت سے کچھ نہ کچھ کام کر سکتا ہے۔لیکن کسی کے دل سے خیالات کا نکالنا اور ان کی جگہ نئے خیالات کا داخل کرنا کسی انسانی طاقت و ہمت کا کام نہیں ہے۔ایک شخص جو تلوار لے کر اٹھتا ہے وہ اس کے زور سے اپنے آگے آنے والے لوگوں کو ہٹا سکتا ہے۔کیونکہ ان تک اس کا ہاتھ پہنچ سکتا ہے۔اسی طرح ایک ڈاکٹر ایک مریض کا علاج کرتا ہے کیونکہ اس کے لئے اس کے پاس سامان مہیا ہیں۔بیماری کی علامتیں اس کو بتاتی ہیں کہ یہ مریض فلاں عارضہ میں مبتلا ہے لیکن روحانی بیماریوں کی علامات کچھ ایسی بار یک اور پوشیدہ ہوتی ہیں کہ اگر ایک انسان کی تشخیص کے لئے ہی ساری عمر خرچ کی جائے تب ممکن ہے کہ پتہ لگے اس کی وجہ یہ ہے کہ اس کا دل اور اس کے خیالات پوشیدہ ہوتے ہیں۔اور چونکہ خیالات پوشیدہ ہوتے ہیں اس لئے جب تک ان کو معلوم نہ کیا جائے۔علاج نہیں ہوسکتا۔اور چونکہ پوشیدہ خیالات کا معلوم کرنا انسان کا کام نہیں ہے اس لئے اصلاح کرنا بھی اس کے اختیار میں نہیں ہے۔بہت دفعہ ایسا ہوتا ہے کہ انسان بہت سوچ سمجھ کر کسی کے سامنے ایک بات اس لئے پیش کرتا ہے کہ اس کو ہدایت