خطبات محمود (جلد 5)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 59 of 653

خطبات محمود (جلد 5) — Page 59

خطبات محمود جلد (5) ۵۹ مگر ہمارے احمدی بھی اس مرض میں مبتلا ہیں جیسے میں نے پہلے واقعہ سنایا اس صورت میں جبکہ ہم خود ان شادیوں کو نا پسند کریں اور ان پر اعتراض کریں تو عیسائی اور دوسرے لوگ نعوذ باللہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر اعتراض کرنے میں سچے ہیں پس ہر ایک مسلمان کا فرض ہے کہ ان احکام کی فرمانبرداری کرے۔جو قرآن شریف نے بیان فرمائے ہیں۔اس صورت میں جبکہ وہ ان احکام کی فرمانبرداری کرے گا۔مسلمان کہلا سکتا ہے۔ایک اور بات یاد آ گئی۔میری شادی پر تو اس شخص نے اعتراض کیا ہے لیکن طلاق کی نسبت تو سخت ممانعت ہوئی ہے۔طلاق دینے کے لئے تو بہت ساری شرطیں لگائی ہیں۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم طلاق کی نسبت فرماتے ہیں کہ یہ ابغض الحلال ہے۔لے خدا اس حلال کو نا پسند کرتا ہے اسی وقت اجازت دیتا ہے کہ جب گزارے کی کوئی صورت ہی نہ رہے۔ان کے امیر قوم مولوی محمد علی نے اپنی پہلی بیوی کو طلاق دی۔وہ بیوی قادیان آئی تھی اور اس کا بیان تھا کہ مولوی صاحب پڑھا کرتے تھے یا وکالت کی تیاری کر رہے تھے تو انہوں نے اسے طلاق دی اور کہا۔میں اس وقت خرچ برداشت نہیں کر سکتا۔بعد میں پھر شادی کرلوں گا۔پھر وہ کہتی تھی۔کہ مولوی صاحب اب مجھ سے شادی کر لیں۔اور اس عہد کو پورا کریں۔میں اپنے بعض حقوق بھی چھوڑنے کے لئے تیار ہوں۔وہاں تو ابغض الحلال بھی اعلیٰ درجے کی چیز بن جاتی ہے اور یہاں وہ چیز بھی جس پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ اور دوسرے انبیاء نے عمل کر کے بتایا بری سمجھی جاتی ہے۔اللہ تعالیٰ ہماری جماعت کو بچاوے۔کرنانہ کرنا اور چیز ہے۔لیکن اگر کوئی عورت یا اس کا رشتہ دار اس بات کو بُرا منا تا ہے تو وہ اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کرتا ہے۔اللہ تعالیٰ ہماری جماعت کو اپنے سچے راستوں پر چلنے کی توفیق دے۔آمین۔ا سنن ابی داؤد کتاب الطلاق باب في كراهية الطلاق الفضل ۱۴ / مارچ ۱۹۱۶ء)