خطبات محمود (جلد 5)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 58 of 653

خطبات محمود (جلد 5) — Page 58

خطبات محمود جلد (5) ۵۸ حضرت عائشہ کے گھر نہ رہے تھے۔بلکہ سب بیبیوں سے پوچھ لیا تھا کہ مجھے آنے جانے میں تکلیف ہوتی ہے۔اگر تم کہو تو میں عائشہ ہی کے ہاں رہوں۔ابیہ باتیں ثابت کرتی ہیں کہ کس قلب کا وہ انسان تھا با وجود اس کے کہ آپ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے بوجہ تقویٰ۔فراست سمجھ۔دانائی کے محبت کرتے تھے لیکن پھر بھی دوسری عورتوں کا لحاظ تھا اور پھر کسی کو ترجیح نہیں دیتے تھے۔نادان انسان کہتا ہے کہ یہ عیاشی ہے لیکن یہ قربانی ہوتی ہے بہت لوگ ہیں کہ ان کے اولا دبھی نہیں ہوتی لیکن وہ دوسری شادی نہیں کرتے۔اس خوف سے کہ یہ بڑا مشکل امر ہے۔طرح طرح کے انتظام اور تکالیف بڑھ جاتی ہیں قسم قسم کی نا پسند باتیں برداشت کرنی پڑتی ہیں۔عیاشی میں انسان یک سوئی کی طرف جھک پڑتا ہے۔لیکن اسلام کی شادیاں ایک طرف جھکنے نہیں دیتیں بلکہ وہ قربانی چاہتی ہیں۔لیکھر ام اس حکمت کو نہ سمجھا اور نہ ہی محمد حسین نے اس حکمت کو پایا۔اس نے مخالف قوم میں پیدا ہو کر آنحضرت پر اعتراض کیا۔محمد حسین نے میرے پر اعتراض کر کے گو یا بالواسطہ نبی کریم صلے اللہ علیہ وسلم کے فعل پر اعتراض کیا۔غرض لوگوں نے اس حکمت کو سمجھا نہیں۔اسلام نے ایسی پابند یاں اور قیود لگائی ہیں کہ اگر کوئی شخص ان پابندیوں اور قیود کے ماتحت شادی کرتا ہے وہ اسلام کی ترقی کے لئے شادی کرتا ہے تو وہ خدا تعالیٰ کے جلال کے اظہار کے لئے یہ قیود اپنے اوپر وارد کرتا ہے۔خدا تعالیٰ جب دشمن کا دل دکھانا چاہتا ہے تو اسی طرح کرتا ہے وہ ایک شادی سے اتنا غصہ میں آیا ابھی تو اس میں دو کی اور گنجائش ہے جو ایک کی برداشت نہ کر سکا۔وہ دو اور کے لئے تو اور بھی زیادہ رنج اٹھائے گا اور گھبرائے گا۔جس شخص کی شادی سے یہ غرض ہو کہ اسلام کی آبادی بڑھے۔اسلام ترقی کرے اسلام کے نام لیوا اور اسلام کے پھیلانے والے بڑھیں۔اس کے لئے اس سے بڑھ کر اور خوشی کی چیز کیا ہوسکتی ہے۔ایک نسل کی ترقی سے دوسری پیچھے آنے والی نسلوں کی بھی ترقی ہوتی ہے۔کے ہمارے مخالفوں کا تو یہ حال ہے کہ وہ دوسری شادی پر اعتراض کرتے ہیں۔بخاری کتاب المناقب باب فضل عائشہ۔