خطبات محمود (جلد 5) — Page 54
خطبات محمود جلد (5) ۵۴ حضرت عبد اللہ بن جعفر قریبا پانچ سو صحابہ ہمارے ساتھ شامل ہیں۔وہ سب اسی اعتراض کے نیچے آئیں گے لیکھرام اور اس کے بھائیوں نے بڑے بڑے اعتراض کئے ہیں وہ کہتے ہیں کہ ایک شخص جو اس قدر لوگوں کی ہدایت کے لئے آوے اور پھر وہ اس طرح کرے ( جیسے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا یہ کیونکر اچھا کام ہو سکتا ہے لیکن باوجود اس اعتراض کو دیکھتے ہوئے جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر ہو چکا تھا اس نے مجھ پر یہی اعتراض کیا۔افسوس اس نے میرے پر یہ اعتراض کر کے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو بھی نہ چھوڑا۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا۔جو عورت اپنے خاوند کی دوسری شادی پر چڑتی ہے اور برا مناتی ہے۔نا پسند کرتی ہے۔غصے میں آتی ہے تو خاوند کے لئے ضروری ہے کہ وہ اس کی اس چڑ کو دور کرنے اور توڑنے کے لئے دوسری شادی کرے اگر کوئی شخص اس کے خلاف ورزی کرتا ہے اور اس پر اعتراض کرتا ہے وہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کے برخلاف کرتا ہے۔لیکن باوجود اس کے بہت سارے احمدی اس کی خلاف ورزی کرتے ہیں خواہ وہ محمد حسین کے مجھ پر اعتراض کرنے کو بُراہی مناتے ہوں اور جوش میں آتے ہوں لیکن جب خودان پر بات آتی ہے تو وہ بھی اسی اعتراض کے مرتکب ہو جاتے ہیں۔اسلام کے تو یہی معنے ہیں کہ اپنے اوپر بھی ان احکام کو چلائے جوا حکام اسلام نے دیئے ہیں۔بہت سارے نبیوں نے ایک سے زیادہ شادیاں کیں۔حضرت ابراہیم۔حضرت یعقوب۔حضرت موسیٰ "۔حضرت داؤد۔حضرت سلیمان۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک سے زیادہ شادیاں کیں۔بڑے بڑے نبیوں میں کثرت سے ایسے نبی گزر چکے ہیں اگر فہرست لی جائے تو ایک سے زیادہ شادیاں کرنے والے نبی زیادہ ہوں گے خود حضرت مسیح کی نسبت بھی چار شادیاں بیان کی جاتی ہیں۔کیا وجہ ہے کہ اس قدرا ولوالعزم انبیاء ایک سے زیادہ شادیاں رکھتے تھے کیا یہ ان کا فعل عیاشی پر مبنی تھا۔اگر کہو کہ نہیں ضرورت کے ماتحت انہوں نے شادیاں کی تھیں۔ایک یا دو یا چار نبی ہوتے تو کہہ سکتے تھے کہ مصلحت کے ماتحت انہوں نے ایک سے زیادہ شادیاں کیں۔یہاں اگر کل چالیس یا پچاس نبی ہیں تو ان اسد الغابہ فی معرفۃ الاصحاب، الاصابہ فی تمیز الصحابہ وسیر الصحابہ۔