خطبات محمود (جلد 5)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 53 of 653

خطبات محمود (جلد 5) — Page 53

خطبات محمود جلد (5) ۵۳ اسی طرح ایک سے زیادہ شادی کرنے کے متعلق باتیں بنائی ہیں۔اس وقت ہندوستان میں یورپ کی ہوا چل رہی ہے اور یوں بھی اسلام سے دور ہوتے ہوتے اس سے بہت بعد ہو گیا ہے اس لئے لوگ دوسری شادی کرنے کے بہت مخالف ہیں۔ایک شخص احمدی نے مجھے لکھا ہے کہ میرے اولاد نہیں ہے اس لئے میں دوسری شادی کرنا چاہتا ہوں۔میرے اس خیال کی وجہ سے میری بیوی کے والدین نے اسے روک لیا ہے۔اور بھیجتے نہیں ہیں کہتے ہیں ہم تب اپنی لڑکی کو بھیجیں گے جب تم یہ لکھ کر دو کہ تم دوسری شادی نہیں کرو گے۔قرآن شریف فرماتا ہے فَانْكِحُوا مَا طَابَ لَكُمْ مِّنَ النِّسَاءِ مَثْنَى وَثُلكَ وربع۔تم شادی کرو جو تمہارے پسند ہو۔ہاں اگر عدل نہ ہو سکے تو ایک کرو۔ورنہ دو دو تین تین چار چار کرنے کی اجازت ہے تو کیونکر ایک شخص احمدی رہ سکتا ہے جبکہ وہ خدا کے اس حکم کے خلاف کرتا ہے۔اللہ تعالیٰ تو حکم دیتا ہے کہ اگر تم عدل نہ کر سکو تو اس صورت میں ایک کرو۔موانع کی موجودگی میں ایک کی اجازت دی ہے۔لیکن موانع نہ ہونے کی صورت میں تمھیں دو دو تین تین چار چار کی اجازت ہے۔میری دوسری شادی پر لاہور کے ایک شخص نے جوسید کہلاتا ہے اعتراض کیا۔اس کو نہیں معلوم کہ جس کی اولاد ہونے کا وہ فخر کرتا ہے اور جس کی بیٹی کی نسل ہونے سے وہ سیڈ بنا ہے اس کے والد کی تونو بیبیاں تھیں۔اگر دو شادیاں کرانے کے لحاظ سے ایک شخص شہوت پرست عیاش کہلا سکتا ہے تو نوشادیاں کرانے والے کی نسبت اس کا کیا خیال ہوگا لیکھرام کی طرح اس نے سمجھا تھا کہ اس نے بڑا بھاری اعتراض کیا ہے لیکن جس طرح لیکھرام کے اعتراض نے اس معز ز کرم کی شان کا کچھ نہیں بگاڑا۔اس شخص کے اعتراض نے میرا بھی کچھ نہیں بگاڑا اس نے اپنے آپ کولیکھرام کے مشابہ کیا اور مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے مشابہت دی۔اس نے نادانی سے کہا کہ یہ شخص عیاشی چاہتا ہے لیکن ہم اسے کہتے ہیں کہ اس کے اس اعتراض کرنے میں حضرت ابوبکر۔حضرت عمر۔حضرت عثمان۔حضرت امام حسین بخاری کتاب النکاح باب كثرة النساء