خطبات محمود (جلد 5) — Page 565
خطبات محمود جلد (5) ހ ۵۶۴ متعلق خدا تعالیٰ فرماتا ہے۔میں رب العلمین۔الرحمن الرحیم ہوں۔کہ مانگنے والے کو دینے کی میں پوری پوری قابلیت اور طاقت رکھتا ہوں۔لیکن اگر یہ خیال ہو کہ میں باوجود دینے کی قابلیت کے شاید بخل سے کام لوں اور مانگنے والے کو نہ دوں تو اس کے لئے صراط الذین انعمت علیہم کو یاد رکھو اس سے تمہیں معلوم ہو جائے گا کہ تم سے پہلے بہت سی ایسی جماعتیں گزر چکی ہیں جن کو میں نے دیا۔اور بہت کچھ دیا۔تو ایک منظم جس کا دروازہ انسان کو کھٹکھٹانا چاہیے۔اس میں دو باتیں دیکھنی چاہئیں۔ایک یہ کہ اس کے پاس دینے کو موجود بھی ہے یا نہیں۔کیونکہ ایک بھوکے اور نادار سے مانگنے کا یہ نتیجہ ہوگا کہ خالی ہاتھ واپس آنا پڑے گا۔اسی طرح اگر ایک ننگے سے کپڑا مانگا جائے تو سوائے نامرادی کے اور کچھ نہ حاصل ہوگا۔یا اگر ایک پیاسے سے پیاسا پانی مانگے گا تو خائب و خاسر رہے گا۔اس لئے کچھ ملنے اور حاصل ہونے کی اُمید اسی سے رکھنی چاہئیے جس کے پاس بھی کچھ ہو۔یہی وجہ ہے کہ خدا تعالیٰ نے سورۃ فاتحہ میں فرمایا ہے کہ میرے پاس بہت کچھ ہے۔دوسری بات یہ کہ اسے دینے کی عادت بھی ہو۔کیونکہ بہت لوگ بڑے دولتمند اور مالدار ہوتے ہیں۔مگر دینے کے وقت انکے ہاتھ سکڑ جاتے ہیں۔اور ان میں دینے کی ہمت اور طاقت ہی نہیں رہتی۔اس لئے دوسری یہ بات دیکھنی ضروری ہے کہ اسے دینے کی عادت بھی ہے یا نہیں۔خدا تعالیٰ فرماتا ہے۔یہ دیکھنے کیلئے ذرا تم اس بات پر تو غور کرو کہ تم سے پہلوں کو ہم نے کیا کیا دیا۔دُور نہ جاؤ نزدیک ہی دیکھ لو کہ محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم) اور اس کی اُمت کو ہم نے روحانی اور جسمانی کس قدر انعامات دیئے۔پھر دیکھو مسیح اور اس کے حواریوں کو ، موسی اور اس کے ماننے والوں کو۔ابراہیم داؤد وغیرہ انبیاء اور ان کے پیروؤں کو کیا کچھ دیا۔پس تم صِرَاطَ الَّذِينَ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمُ کو دیکھ کر نتیجہ نکال لو کہ ہم میں دینے کی قابلیت ہے یا نہیں۔تو اس سورۃ میں خدا تعالیٰ نے نہایت مختصر الفاظ میں انسان کو اس طرف متوجہ کیا ہے کہ مومن کو ہم بڑے بڑے انعام دے سکتے ہیں۔اور پھر ان انعامات کی کوئی حد بندی نہیں کی۔بلکہ صِرَاطَ الَّذِينَ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمُ فرما کر بہت وسیع کر دیا ہے کہ ہر ایک وہ انعام جو پہلوں کو حاصل ہو اوہ اب بھی دیا جا سکتا ہے۔