خطبات محمود (جلد 5) — Page 522
خطبات محمود جلد (5) ۵۲۱ کوشش سے کچھ آگے بڑھے تو دوسرے کیلئے حکم ہے کہ وہ اس سے بڑھے۔جب وہ اس سے بڑھے گا تو پھر پہلے کو وہی حکم آگے بڑھنے کیلئے تیار کر دیگا۔غرض ہر ایک کے لئے استباق کا حکم ہے۔تو ہر ایک جہاں تک انسانی طاقت میں ہے ایک دوسرے سے آگے بڑھنے کی کوشش کرے گا۔اس لفظ فاستبقوا کی بجائے کئی اور لفظ ہو سکتے تھے۔مثلاً فاسعوا ہو سکتا تھا یا ازیں قبیل کوئی اور لفظ۔مگر جو حقیقت لفظ فاستبقوا میں رکھی گئی ہے۔وہ کسی اور میں نہیں آسکتی تھی۔اس لئے اسی کو رکھا گیا۔اس جگہ قرآن کریم اسلام اور دیگر مذاہب کا مقابلہ کرتا ہے۔اور بتاتا ہے کہ تمام مذاہب خیرات کی طرف سے غافل ہیں۔اور خیرات کی حقیقت سے ناواقف۔پس اس وقت مسلمانوں کے لئے اچھا موقع ہے کہ آگے بڑھیں۔یہ لفظ ایسا جامع ہے کہ جس سے بڑھ کر کسی مقصد اور مدعا کی طرف دوڑنے اور جلدی کرنے کا حکم ہو ہی نہیں سکتا۔ہو سکتا ہے کہ ایک شخص دوڑے مگر پوری طاقت سے نہ دوڑے۔جلدی کرے۔مگر جس قدر کہ چاہئیے۔اسقدر جلدی نہ کرے۔لیکن استباق کے حکم کا اس وقت تک پورا ہونا ناممکن ہے۔جب تک کہ پورے زور اور پوری طاقت سے کام نہ لیا جائے۔ایک آدمی تیزی سے چلتا ہے۔اس کو حکم ہے کہ دوسرے سے آگے بڑھے اب جس قدر وہ دوسرے سے آگے بڑھنے کی کوشش کر سکتا ہے وہ اس لفظ استباق میں آگئی کیوں؟ اس لئے کہ جب ایک شخص سے دوسرا بڑھتا ہے تو اسکو بھی تو حکم ہے کہ آگے بڑھو۔اسلئے وہ اس سے زیادہ تیزی سے آگے بڑھے گا۔پھر پہلے کیلئے حکم ہے کہ تم آگے بڑھو۔اسلئے وہ اس سے زیادہ تیزی اختیار کر یگا حتی کہ جس قدر کسی میں طاقت اور ہمت ہوگی۔وہ سب اس میں صرف کر دیگا۔پس استباق اپنے اندر تیزی اور دوڑنے یا جلدی کرنے کے معنی نہیں رکھتا۔مگر حقیقت میں اسقدر تیزی رکھتا ہے کہ جس قدر کسی انسان میں طاقت ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔لَا يُكَلِّفُ اللَّهُ نَفْسًا إِلَّا وُسْعَهَا۔(البقرہ:۲۸۷) تو اللہ تعالیٰ نے انسان کے اندر جس قدر بھی طاقت ہے۔اس تمام کے خرچ کرنے کا حکم دیا ہے۔اور اس غرض کیلئے لفظ بھی ایسا رکھا ہے جو تمام غفلتوں کو کاٹ دیتا ہے۔تمام مُستیوں کو دُور کر دیتا ہے۔دیگر مذاہب کہتے ہیں کہ نیکی کرو۔مگر اسلام کہتا ہے کہ نیکی کرو اور ایک دوسرے سے بڑھو۔یہ کام کوئی معمولی کام نہیں ہے۔ایک دو کا مقابلہ ہو تو خیر۔لیکن یہاں تو ہزاروں ہی اس کے لئے تیاری کر رہے ہیں۔اور ان میں سے ہر ایک دوسرے سے