خطبات محمود (جلد 5)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 501 of 653

خطبات محمود (جلد 5) — Page 501

خطبات محمود جلد (5) بھی ہو۔اور جو اس کے متعلق بولتے وقت اپنے الفاظ کو نہیں دیکھے گا تو یاد رکھو کہ وہ کافر ہوکر مرے گا۔اس آیت میں رسول کریم مخاطب ہیں :۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔يَأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَقُولُوا رَاعِنَا وَقُولُوا انْظُرْنَا مگر جس کے لئے ادب کا حکم ہوتا ہے وہ بھی اس آیت میں داخل ہوتا ہے۔خدا نے حضرت ابوبکر کو اس مقام پر کھڑا کیا تھا جو ادب کی جگہ تھی۔جس وقت اختلاف شروع ہوا۔آپ نے کہا کہ میں اسوقت تک لوگوں سے لڑوں گا خواہ تمام جہان میرے برخلاف ہو جائے جب تک یہ لوگ اگر ایک رسی بھی جو آنحضرت کو دیتے تھے نہیں دیں گے۔پس یہ مت سمجھو کہ حفظ مراتب نہ کرنا کوئی معمولی بات ہے اور کسی خاص شخص سے تعلق رکھتا ہے۔بلکہ خواہ دینی ہو یا دنیاوی خلافت جب ان کے لئے ادب کا حکم ہے سب کے لئے ضروری ہے کہ اس کا ادب کیا جائے۔کوئی شخص اگر بادشاہ کا ادب نہیں کرے گا تو جانتے ہو وہ سزا سے بچ جائے گا ؟ میں نے کئی دفعہ سنایا ہے کہ انشاء اللہ خان بڑا شاعر تھا اور ہمیشہ اس امر کی کوشش کیا کرتا تھا کہ بادشاہ کی تعریف میں دوسروں سے بڑھ کر بات کہے دربار میں بادشاہ کی تعریف ہونے لگی کسی نے کہا کہ ہمارے بادشاہ کیسے نجیب ہیں۔انشاء اللہ خان نے فوراً کہا نجیب کیا۔حضور تو انجب ہیں ہے۔اب انجب کے معنے زیادہ شریف کے ہیں اور ساتھ ہی لونڈی زادہ کے بھی۔اتفاق یہ ہوا کہ بادشاہ تھا بھی لونڈی زادہ۔تمام دربار میں سناٹا چھا گیا اور سب کی توجہ لونڈی زادہ کی طرف ہی پھر گئی۔بادشاہ کے دل میں بھی یہ بات بیٹھ گئی اور انشاءاللہ ان کو قید کر دیا جہاں وہ پاگل ہو کر مر گیا۔پس زبان سے محض خلیفہ اسیح خلیفہ اسیح کہنا کچھ نہیں۔مجھے آج ہی ایک خط آیا ہے جس میں اس خط کا لکھنے والا لکھتا ہے کہ آپ نے جو فیصلہ کیا ہے، وہ غریب سمجھ کر ہمارے خلاف کیا ہے۔اب اگر فی الواقعہ ایسی ہی بات ہو کہ کوئی شخص فیصلوں میں درجوں کا خیال رکھے تو وہ تو اول درجہ کا شیطان اور خبیث ہے چہ جائے کہ اس کو خلیفہ کہا جائے۔دیکھو میں نے ان لوگوں کی بھی کچھ پرواہ نہیں : تاریخ الخلفاء للسیوطی ص ۶۱ :- آب حیات مصنفہ مولانا محمد حسین آزاد