خطبات محمود (جلد 5)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 474 of 653

خطبات محمود (جلد 5) — Page 474

خطبات محمود جلد (5) ۴۷۳ کے حکم کو اسی طرح قبول کیا جائے گا جس طرح شراب اور تعدد ازواج کے متعلق کیا گیا ہے۔گورنمنٹ ہند نے جب قرضہ جنگ کی تحریک کی تو میں نے اپنی جماعت کی طرف سے کوشش کی کہ کوئی صورت اس قسم کی بھی ہونی چاہیئے کہ جو لوگ قرضہ بلا سود دینا چاہیں وہ بھی اس میں شامل ہوسکیں۔اس کے متعلق سرکاری حکام سے خط و کتابت کرائی گئی۔مگر یہی جواب ملا کہ ایسا نہیں ہوسکتا۔تاہم میں نے کوشش برابر جاری رکھی اور دو ایک جگہ جب قرضہ جنگ کے متعلق جلسے ہوئے تو میں نے اپنے آدمیوں کو بھیجا۔جنہوں نے وہاں بھی یہی تجویز پیش کی آخر گورنمنٹ نے اعلان کر دیا کہ گورنمنٹ ایسے قرض کو بھی وصول کرلے گی جو بلاسود دیا جائیگا۔صدیوں کے بعد یہ پہلا موقعہ ہے کہ کسی گورنمنٹ نے بلاسود قرض لینے کی تجویز کو منظور کیا ہے۔ترکوں نے جو مسلمانوں کی حکومت کہلاتی ہے۔ارد گرد کے حالات سے متاثر ہوکر اپنے علماء کو مجبو رکیا تھا کہ کسی نہ کسی طرح وہ سود کے جواز کا فتویٰ دے دیں۔لیکن ادھر ایک غیر مسلم سلطنت ہے۔اس کے اپنی رعیت کے ساتھ ایسے تعلقات ہیں کہ اس کی رعایا کا ایک حصہ اس کو مجبور کرتا ہے کہ ہم سے جس قدر بن پڑتا ہے اور جتنی ہماری طاقت ہے اس کے مطابق ہم سے بغیر کسی سود کے روپیہ لیا جائے۔کیونکہ ہمارے نزدیک وفاداری کا ثبوت تو یہی ہے کہ بغیر کسی قسم کی حرص کے مدد کی جائے۔ہر ایک شخص کے پاس کچھ نہ کچھ روپیہ ہوتا ہے اور اس وقت ضرورت ہے کہ ہر ایک شخص اسلام کی صداقت کو ظاہر کرنے کے لئے اس قرضہ میں کچھ نہ کچھ حصہ ضرور لے۔ہم لوگوں سے جس قدر ہو سکے گورنمنٹ کو قرض بلا سود دیں۔کیونکہ جو شخص اپنے گھر کے پہرہ دار کو یہ کہے کہ مجھ کو کچھ دے تب میں تمہیں اپنے گھر کی حفاظت کے سامان دوں گا تو کس قدر عقل سے دُور بات ہے۔گورنمنٹ بھی رعایا کی ایک پہرہ دار اور محافظ ہی ہے۔ہماری حفاظت کر رہی ہے۔اب جب یہ ہماری حفاظت کے لئے روپیہ طلب کرتی ہے تو یہ نہیں ہو سکتا کہ ہم کہیں کہ ہمیں کچھ نفع دو۔تب ہم تمہیں روپیہ دیں گے۔مسلمانوں کی حکومت کی تو یہ حالت کہ اس کو مولویوں سے سُود کے جواز کے فتویٰ کی ضرورت پڑی کہ لوگ اس کو قرض دیں۔ادھر خُدا نے ہماری گورنمنٹ کے دلوں میں ایسی محبت ڈال دی کہ اس کی رعایا کا ایک طبقہ گورنمنٹ کو مجبور کرتا ہے کہ ہمیں موقعہ دیا جاوے کہ ہم بلاسود کے قرضہ میں شامل ہوں۔یہ اللہ تعالیٰ کا فضل ہے کہ لوگوں کے دلوں میں کسی گورنمنٹ کی محبت ڈال دیتا ہے۔میں اپنی جماعت سے چاہتا ہوں کہ جس قدر ہو سکے جنگ کے قرضہ میں حصہ لے۔جب