خطبات محمود (جلد 5)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 409 of 653

خطبات محمود (جلد 5) — Page 409

خطبات محمود جلد (5) ۴۰۸ غلط ہے۔آپ نے گورنمنٹ کی خدمت کی اور بہت بڑی خدمت کی۔مگر اس کے بدلہ میں کوئی امید نہیں رکھی۔مگر باوجود ان باتوں کے آپ نے گورنمنٹ کی وفاداری پر کیوں اتناز ورد یا۔اسکی سوائے اس کے کوئی وجہ نہیں ہے کہ ایک زمانہ ایسا آنا تھا۔جبکہ گورنمنٹ کے خلاف بعض لوگوں کے خیالات پھیلنے تھے۔آپ نے ۱۸۹۸ء میں لارڈ ایلیجن کو لکھا تھا کہ مذہبی مباحث کے لئے ایسے قواعد پاس ہونے چاہئیں جن کی وجہ سے امن میں خلل واقعہ نہ ہو۔اور اس کے متعلق کچھ تجاویز بھی پیش کی تھیں۔لیکن اس وقت چونکہ ایسے حالات نہ تھے اس لئے ان پر توجہ نہ کی گئی۔مگر ۱۹۱۴ ء میں ان کو تسلیم کرنا پڑا۔الد پس حضرت مسیح موعود نے جو گورنمنٹ کے متعلق وفادارانہ خیالات رکھنے کے متعلق اس قدر کوشش کی کہ مشورے دیئے۔اس کی ترقی کے لئے دعائیں کیں۔اپنی کتابوں میں بار بار توجہ دلائی۔تو یہ یونہی نہیں تھا۔بلکہ ایک پیشگوئی کے ماتحت تھا۔کیونکہ ایک ایسا زمانہ آنا تھا۔جبکہ لوگوں کے خیالات میں تبدیلی ہوئی تھی۔مگر حضرت مسیح موعود نے اس سے پیشتر ہی آگاہ کر دیا کہ تم اس سے متاثر نہ ہونا اور گورنمنٹ کے متعلق اپنے وفادارانہ اور ہمدردانہ خیالات رکھنا۔پس میں بھی حضرت مسیح موعود کے تتبع میں اپنی جماعت کے لوگوں کو آگاہ کرتا رہتا ہوں اور اب بھی کرتا ہوں کہ اس زمانہ میں جو نا پاک اور گندے خیالات پھیل رہے ہیں۔ان سے پورے طور پر بچیں۔اور نہ صرف خود ہی بچیں۔بلکہ دوسروں کو بھی بچائیں۔بعض رؤیا ایسے بھی ہوتے ہیں جن کے ایک حصہ کا پورا کرنا انسان کا کام ہوتا ہے۔دیکھو یہ منارہ ایک پیشگوئیوں کے پورا کرنے کے لئے حضرت مسیح موعود نے بنوانا شروع کیا تھا۔جس پر پچیس ہزا روپیہ صرف ہوا ہے۔تو پیشگوئی کے بعض حصے ایسے ہوتے ہیں جن کو خدا تعالیٰ پورا کرتا ہے اور بعض ایسے جو انسانوں کے ذریعہ پورے ہوتے ہیں۔اب اسوقت خدا تعالیٰ نے اپنا حصہ تو اس طرح پورا کر دیا ہے کہ ایک ایسی لہر پیدا کر دی ہے جس سے لوگوں کے خیالات میں تغیر واقعہ ہو گیا ہے۔اب دوسرا حصہ ہمارے ساتھ تعلق رکھتا ہے۔اور وہ یہ کہ ایسے موقعہ پر ہماری جماعت پوری پوری وفادار ثابت ہوگی۔پس میں اپنی جماعت کو نصیحت کرتا ہوں کہ وہ اس قسم کے خیالات سے اپنے آپ کو بکلی بچائے۔جو گورنمنٹ کے خلاف ہوں۔اور پھر ان کے مٹانے کی پوری پوری کوشش کرے۔خصوصا وہ لوگ جو مدرس ہیں خواہ یہاں کے سکولوں کے یا باہر کے۔انکی زیر نگرانی جو طلباء ہوں وہ ان میں گورنمنٹ کی وفاداری کا بیج بوئیں۔طلباء کے دلوں میں بویا ہؤا بیج خوب پھل لاتا ہے۔گورنمنٹ نے اس بات کو مانا ہے۔کہ وہ اسکمیٹیشن سخت خطر ناک ہوتی ہے جو طالب علموں کے ذریعہ پھیلائی جاتی ہے۔چنانچہ بنگال کے گورنر نے اپنی ایک تقریر میں یہی کہا ہے۔اس کے مقابلہ کے لئے ہمیں بھی وہی ذریعہ اختیار کرنا چاہئیے۔یعنی طلباء کے دلوں میں پورے زور