خطبات محمود (جلد 5)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 399 of 653

خطبات محمود (جلد 5) — Page 399

خطبات محمود جلد (5) ۳۹۸ ہوگئی کہ ہر ایجاد کی ابتداء رحمانیت کے ماتحت ہوتی ہے۔ہاں ایجاد ہونے کے بعد اس میں اپنی کوشش اور محنت سے ترقی دی جاتی۔اور اسے اعلیٰ درجہ پر پہنچایا جاتا ہے۔مثلاً ہوائی جہاز ایجاد ہوئے ہیں۔فرض کر لو۔جس وقت ایجاد ہوئے اس وقت سو میل فی گھنٹہ رفتار پیدا ہو سکی لیکن بعد میں اس کو ترقی دیتے دیتے ایک سو ہیں میل یا اس سے بھی زیادہ رفتار کے جہاز تیار کر لئے جائیں تو ایجاد ہونے کے بعد ترقی دینے اور تجربہ کرنے میں موجد لگتے ہیں پہلے انہیں خود بھی معلوم نہیں ہوتا کہ ہم کامیاب ہوں گے یا نہیں؟ یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ خدا تعالیٰ نے انسانی ترقی کے لئے جو سامان پیدا کئے ہیں وہ بہت وسیع ہیں۔اور جب ان کو کام میں لایا جاتا ہے تو انسان بڑی ترقی اور عروج حاصل کر لیتا ہے اور رحمانیت کے بعد رحیمیت اور رحیمیت کے بعد پھر رحمانیت کے ماتحت وہ ترقی پر ترقی کرتا چلا جاتا ہے۔یعنی جب ایک صفت کے ماتحت کام کرتا ہے تو دوسری سے اسے مستفیض کیا جاتا ہے۔اور جب دوسری کو کام میں لاتا ہے تو پھر پہلی سے اسے فائدہ پہنچایا جاتا ہے۔اس کی مثال ایسی ہے کہ ایک نجار کو میز بنانے کے لئے لکڑی دی جائے۔جب وہ بنالے تو اور دے دی جائے اور اسی طرح جب وہ فارغ ہو۔اُسے اور لکڑی دے دی جایا کرے۔خدا تعالیٰ انسانوں کے ساتھ یہی معاملہ کرتا ہے کہ جب وہ ایک ترقی کر چکتے ہیں تو ان کے سامنے آگے بڑھنے کے لئے اور سامان رکھ دیتا ہے۔اور پھر فرماتا ہے۔ہماری ربوبیت اسی دنیا میں ختم نہیں ہو جاتی یعنی یہ نہیں کہ جب انسان مر گیا تو اس کی ترقی بھی بند ہو گئی۔بلکہ خُدا مالک یوم الدین ہے اس لئے دنیا میں جو کام تم کرتے ہو یہ ایک بیج کی طرح ہو جاتے ہیں۔اور ان سے پھل نکلنے شروع ہو جاتے ہیں۔یہی دو عالم ہیں۔جب ان میں ترقی ختم نہیں ہوتی۔اور تیسرا کوئی عالم ہی نہیں ہے تو معلوم ہوا کہ انسانی ترقی کبھی ختم نہیں ہوتی۔سورۂ فاتحہ میں اسی وسعت کی طرف خدا تعالیٰ نے انسان کو متوجہ کیا ہے۔لیکن ساتھ ہی یہ بھی بتادیا ہے کہ باوجود اس وسعت اور فراخی کے انسان کی اپنی غلطی اور کوتاہی سے اس کی ترقی رک بھی جاتی ہے۔چنانچہ غیر المغضوب عليهم ولا الضالین میں بتایا کہ وہ لوگ جو ترقی نہیں کرتے بلکہ تنزل کرتے ہیں یا جو کام چھوڑ کر بیٹھ رہتے ہیں ان کے متعلق یہ نہ سمجھنا کہ انہوں نے ترقی کی تمام منازل طے کر لی ہیں۔اور اب آگے بڑھنے کے لئے ان کے پاس کوئی سامان نہیں ہے کیونکہ ہمارے انعامات بھی ختم نہیں ہوتے۔ہاں اگر انسان خود تھک کر بیٹھ رہے۔اور کوشش کرنا چھوڑ دے۔اور اپنی بدا فعالیوں سے ہمیں ناراض کر لے۔تو پھر مغضوب علیہم میں شامل ہو جاتا ہے اس کے لئے تمہیں یہ کرنا چاہیے کہ ہم سے یہ التجا کرو کہ اے ہمارے خُدا ہمیں مغضوب لوگوں میں