خطبات محمود (جلد 5)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 391 of 653

خطبات محمود (جلد 5) — Page 391

خطبات محمود جلد (5) ۳۹۰ جس کے متعلق یہ تمہید بیان کرنے کی تحریک ہوئی ہے اور وہ یہ کہ پرسوں مجھے ایک ٹریکٹ رجسٹری ملا ہے جب میں نے اس کو کھولا تو معلوم ہوا کہ وہ مولوی محمد احسن صاحب کا مضمون ہے۔میں نے ان کو سالانہ جلسہ سے چند ہی دن پہلے ایک خط میں لکھا تھا کہ مختلف دوستوں کے خطوط اور اخبارات سے معلوم ہوا ہے کہ آپ چند روز کے لئے لاہور تشریف لائے ہوئے ہیں۔افسوس ہے کہ آپ قادیان تشریف نہ لائے۔حالانکہ اگر آپ تشریف لاتے تو پالکی وغیرہ سواری کا انتظام کیا جاسکتا تھا۔جس سے آپ کو ہرگز تکلیف نہ ہوتی۔“ پھر یہ بھی لکھا تھا کہ اگر آپ چاہیں تو لاہور میں ہی دوسری جگہ آپ کی رہائش کا انتظام کر سکتے ہیں اور اگر آپ چاہیں تو آپ کے قادیان لانے کے لئے بھی ہر طرح کے آرام کا انتظام کیا جا سکتا ہے۔مجھے خداوند تعالیٰ نے محبت کرنے والا دل دیا ہے۔میں نے جو تعلق بنایا ہو اُسے توڑنے کا عادی نہیں۔ہاں دوسرے کی طرف سے ابتدا ہو تو الگ بات ہے۔پس میں تو ہر طرح آپ سے محبت کا معاملہ ہی کروں گا الا ماشاء اللہ اور میری طرف سے ابتداء نہ ہوگی۔ہاں اگر جماعت کو ابتلا میں ڈالا گیا تو جس کام پر خدا تعالیٰ نے مجھے کھڑا کیا ہے اس کے پورا کرنے کے لئے کسی اور تعلق کی پرواہ نہیں کرتا۔خواہ مجھے کیسا ہی پیارا رشتہ کیوں نہ تو ڑنا پڑے۔مجھے اس کی پروا نہیں۔“ اس خط کے جواب میں انہوں نے یہ مضمون لکھا ہے۔مجھے پہلے بھی بتایا گیا تھا کہ مولوی صاحب نے اپنے بعض مضامین میں ہمارے متعلق ایک عجیب بات لکھی ہے لیکن میں نے خود نہیں پڑھی تھی۔اس مضمون کو جو میں نے پڑھا تو اس میں بھی وہ بات لکھی ہوئی پائی۔مجھے حیرت ہوئی تھی کہ وہ کس طرح ہماری طرف وہ بات منسوب کرتے ہوں گے۔مگر اس مضمون میں تو خود دیکھ لیا ہے۔وہ میرے متعلق لکھتے ہیں کہ :۔آپ اپنی خلافت کو سیاسی ہی خلافت اعتقاد کر رہے ہیں۔جب ہی تو آپ نے انوارِ خلافت میں جو تاریخ خلیفہ ثالث ورابع کی بہ نسبت خوارج لکھی ہے۔اس کو اپنی خلافت پر قیاس کیا ہے تو میں آپ کو نصیحت کرتا ہوں کہ آئندہ کبھی اس کا خیال تک نہ لانا۔گورنمنٹ عالیہ کے منشاء کے محض خلاف ہے۔“ چونکہ ۱۹۱۵ ء کے سالانہ جلسہ پر میں نے جو تقریر کی تھی اور جوانوار خلافت کے نام سے چھپ چکی ہے۔اس میں میں نے بتایا تھا کہ حضرت عثمان کے وقت اس طرح جھگڑے ہوئے تھے۔ہماری جماعت کو ہوشیار رہنا چاہیئے۔اس لئے مولوی محمد احسن صاحب کے نزدیک میں اپنی خلافت کو