خطبات محمود (جلد 5) — Page 28
خطبات محمود جلد (5) ۲۸ نمونہ ہوتے ہیں۔اور ان میں سے ممتاز کئے جاتے ہیں۔خدا تعالیٰ نے ایسے ہی لوگوں کا نام بندہ اور انسان رکھا ہے۔در حقیقت وہی انسان ہوتا ہے جو اپنے اندر دو انس رکھے۔ایک خدا سے اور ایک اس کے بندوں سے اور وہی عبد ہے جو عبودیت میں اپنے جسم اور روح کو لگا دیتا ہے کہنے کو تو جانور بھی کہہ سکتا ہے کہ میں انسان ہوں۔لوگ طوطے کو سکھاتے ہیں کہ کہو ” میاں مٹھو لیکن اگر کوئی اسے یہ سکھا دے کہ ”میں انسان ہوں تو وہ یہی کہنے لگ جائے۔لیکن اس کے کہنے سے وہ انسان نہیں بن جائے گا۔کیونکہ انسان کے اندر جو خواص اور باتیں ہونی چاہئیں وہ اس کے اندر نہیں ہیں۔کیا یہ طوطے کی شکل وصورت کا قصور ہے کہ وہ باوجود اس کے کہ کہتا ہے کہ میں انسان ہوں انسان نہیں ہوسکتا۔اور کیا اگر موجودہ انسان طوطے کی شکل کے ہوتے تو انسان نہ ہوتے۔پھر کیا اگر حیوان انسان کی شکل کا ہو تو وہ انسان ہوسکتا ہے۔مثلاً بہت سے بندر اور مچھلیاں ایسی ہیں کہ انسان کی شکل سے بہت بڑی مشابہت رکھتی ہیں مگر انسان نہیں ہیں۔ان کا منہ سرکان۔انگلیاں وغیرہ انسانوں کی طرح کی ہوتی ہیں پھر کیا وجہ ہے کہ ان کو انسان نہیں کہا جاتا۔اور مچھلیوں اور آدم کی اولاد میں وہ کیا فرق ہے جو ان کو علیحدہ رکھتا ہے یہی کہ وہ مذہب کی اس رنگ میں پابند نہیں ہیں۔جس رنگ میں انسان پابند ہیں۔ان کو وہ سمجھ اور عقل نہیں ہے جو انسانوں کو متمدن اور عقل مند بناتا ہے۔پس اگر انسانی شکل کسی حیوان کی ہو جائے تو وہ انسان نہیں ہو سکتا۔اور اگر انسان کی موجودہ شکل بدل کر کسی اور طرح کی بنادی جائے تو وہ حیوان نہیں ہو جاتا۔کئی آدمی ایسے ہوتے ہیں جو بہت بدشکل ہوتے ہیں اور بندر کی طرح ان کی صورت ہوتی ہے مگر وہ بند ر نہیں ہوتے۔پس وہ چیز جو انسانوں اور حیوانوں میں مابہ الامتیاز ہے اگر اسی کے حاصل کرنے یا حاصل کردہ کے قائم رکھنے میں انسان کوشاں نہ ہو تو کیا وہ انسان ہو سکتا ہے۔ایسا انسان صرف لفظی انسان ہے حقیقی نہیں۔اور حیوانوں سے بدتر ہے کیونکہ حیوان جس قانون کے ماتحت رکھے ہوتے ہیں وہ اس میں نافرمانی نہ کر سکتے ہیں اور نہ کرتے ہیں مگر انسان کو جس قانون کا پابند قرار دیا جاتا ہے وہ اس کی مخالفت میں کھڑا ہو جاتا ہے اور مخالفت کرتا ہے۔ایسی حالت میں وہ انسانیت