خطبات محمود (جلد 5)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 369 of 653

خطبات محمود (جلد 5) — Page 369

۳۶۸ 43 خطبات محمود جلد (5) عدل پر کار بند رہو فرموده ۱۹ جنوری ۱۹۱۷ء تشهد وتعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت فرمانے کے بعد حضور نے یہ آیت پڑھی:- ان الله يأمر بالعدل والاحسان و ایتائ ذى القربى وينهى عن الفحشاء والمنكر والبغي يعظكم لعلكم تذکرون۔اور فرمایا:- عدل یعنی برابری کسی کے ساتھ برابر کا سلوک کرنا کئی قسم کا ہوتا ہے۔بعض قسم کا ناجائز ہوتا ہے مثلاً اللہ سے کسی چیز کو برابر کرنا کوئی کہے کہ میں عدل کرتا ہوں کہ اللہ کے برابر کسی کو جانتا ہوں۔تو یہ عدل نہیں بلکہ شرک ہوگا اور بُری بات ہوگی۔کیونکہ ایک بادشاہ سے غلام کو برابر کرنا انصاف اور عدل نہیں بلکہ ناانصافی اور ظلم ہوگا۔ہاں عدل یہ ہوتا ہے کہ جتنا کسی کا حق ہو اتنا اس کو دے دیا جائے۔اس میں کسی قسم کی کمی بیشی کرنا اور جتنا حق ہو اتنا نہ دینا اور جس کا حق نہ ہو اس کو دینا۔یہ عدل کے خلاف ہو جاتا ہے۔پھر حق کئی اقسام کے ہوتے ہیں مثلاً کئی اس قسم کے ہوتے ہیں کہ ایک شخص کسی سے کچھ لیتا ہے اور اتناہی اس کو دیتا ہے۔کچھ حقوق خدا کی طرف سے ہوتے ہیں تو جو شخص ان حقوق کو پورا نہیں کرتا وہ غلطی کرتا ہے۔اور کچھ حقوق تمدن کی طرف سے ہوتے ہیں۔تمدن چاہتا ہے کہ خاص لوگوں سے مروت اور احسان کیا جائے۔اگر کوئی ان حقوق کو پورے طور پر ادا نہ کرے تو وہ ظالم ہوگا کچھ حقوق انسان اپنے نفس پر مقرر کر لیتا ہے مثلاً کہتا ہے کہ فلاں شخص سے یہ سلوک کروں لیکن اگر اس سے وہ سلوک نہیں کرتا تو عدل کے خلاف کرتا ہے۔غرض یہ مختلف حقوق خواہ وہ خدا کی طرف سے ہوں خواہ حکام کی طرف سے خواہ قرض کے طور پر ہوں خواہ تمدن کے رنگ میں خواہ اس کے اپنے نفس کے متعلق ہوں اور خواہ اور کسی قسم کے ان کو پورے : النحل: ۹۱