خطبات محمود (جلد 5)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 279 of 653

خطبات محمود (جلد 5) — Page 279

خطبات محمود جلد (5) ۲۷۹ مشکل پڑتی کہ کونسے اولی الامر کی اطاعت کی جائے۔کیا اگر کسی دوسرے ملک کا بادشاہ کوئی حکم دے تو اُسے بھی ماننا چاہیئے۔اس مشکل کو دور کرنے کے لئے خدا تعالیٰ نے منکم فرما دیا کہ جو تم پر حاکم ہواس کی اطاعت کرنی تمہارا فرض ہے۔یہ ایک ایسی پر امن تعلیم ہے کہ اس پر عمل کرنے سے تمام فتنے مٹ سکتے ہیں فتنہ اور فساد کا باعث یہی ہوتا ہے کہ اپنے حاکم کی نافرمانی کی جاتی ہے یا غیر حاکم کی فرمانبرداری کی جاتی ہے اس لئے فرمایا کہ اے مومنو! تم پر اللہ اور اس کے رسول کی اور اسکی جو تم پر حاکم ہو یا جو تم میں اولی الامر ہو اطاعت فرض ہے۔اس میں یہ بات بھی بتادی کہ دنیا کے ہر ایک اولی الامر کی اطاعت فرض نہیں بلکہ اس کی جس کے ماتحت تم ہو اور جو تم پر حکومت کرتا ہو۔ہاں اگر کسی اور کے علاقہ میں چلے جاؤ تو پھر اس کی اطاعت کرنا تمہارا فرض ہوگا۔یہ ایسی امن کی تعلیم ہے کہ اگر مسلمان اس پر عمل کرتے تو بڑی عزت اور رتبہ کے مالک ہوتے لیکن انہوں نے اس کے معنی بدل کر اپنے لئے ذلت اور رسوائی خرید لی۔بعض لوگ کہتے ہیں کہ فان تنازعتم فی شئی فردوه الی الله والرسول ان كنتم تؤمنون بالله واليوم الأخر اگر تمہارا کسی بات میں تنازع ہو جائے تو اُسے اللہ اور رسول کی طرف پھیرو۔اگر تم اللہ اور یوم آخرت پر ایمان لاتے ہو۔اس سے نتیجہ نکلتا ہے کہ اولی الامر مسلمان ہی ہوتا ہے۔کیونکہ حکم ہے کہ اگر تمہارا آپس میں جھگڑا ہو جائے تو اللہ اور اس کے رسول کی طرف کو ٹا دو۔اس سے پتہ لگا کہ یہاں اولی الامر سے مراد مسلمان حاکم ہیں کیونکہ اگر مسلمان حاکم ہوگا تب ہی تو وہ اللہ اور اس کے رسول کے فیصلہ کو قبول کرے گا لیکن یہ اعتراض درست نہیں کیونکہ ہم ہی نہیں بلکہ پچھلے مفسرین بھی اس کے متعلق یہ کہتے ہیں کہ اس کا یہ مطلب نہیں کہ اگر تمہارا حاکموں سے جھگڑا ہو جائے تب ایسا کرو بلکہ یہ آپس کے جھگڑوں کے متعلق ہے کہ اگر تمہارا آپس میں جھگڑا ہو جائے تو اس کا فیصلہ اللہ اور اسکے رسول کے حکم کے ماتحت کرلو۔یہ ایک الگ بات ہے۔پہلے خدا تعالیٰ نے حکام سے تعلق رکھنے اور ان کی اطاعت کرنے کے متعلق فرمایا ہے پھر آپس کے تعلقات کے متعلق حکم دیا ہے۔وہ لوگ جن کی اتباع کا مسلمان دعوی کرتے ہیں وہ بھی اس کے یہی معنی کرتے آئے ہیں۔چنانچہ نواب صدیق حسن خاں صاحب مرحوم والی بھو پال نے بھی اپنی تفسیر میں لکھا ہے کہ اس آیت کے یہ معنے کرنے کہ اے رعایا اگر تیرا حکام سے جھگڑا ہو جائے تو پھر اس اس طرح کرو درست نہیں۔اور اکثر ائمہ نے ان معنوں کو باطل قرار دیا ہے۔پس اگر اسی آیت کو لیا جائے تب بھی اس سے ثابت نہیں ہوتا کہ اس میں کسی خاص مذہب یا قوم کے حکام کی اطاعت کا حکم دیا گیا ہے بلکہ یہ تعلیم عام ہے اور جب عام ہے تو کسی شخص کا حق نہیں کہ اپنے خیال سے اسے خاص کرے اور یہ شرط لگا دے کہ مسلمان حاکم ہو تو اس کی اطاعت فرض ہے ورنہ نہیں۔آیت میں مسلمان غیر مسلمان کا کوئی ذکر نہیں۔پس جس مذہب یا جس قوم کا بھی حاکم ہو اس کی اطاعت اس حکم