خطبات محمود (جلد 5)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 260 of 653

خطبات محمود (جلد 5) — Page 260

خطبات محمود جلد (5) ۲۶۰ کہ تو ہمیں فسادوں اور فتنوں سے بچا اور شریروں اور باغیوں کے وساوس سے نجات دے اور بلند سے بلند درجے حاصل کرنے کی توفیق بخش۔جس طرح بلندی کے بڑھنے کے ساتھ ساتھ مشکلات بھی بڑھتی جاتی ہیں۔اسی طرح خدا تعالیٰ نے اپنی صفات بھی علی الترتیب اعلی بیان فرما دی ہیں۔تا کہ جہاں مشکلات بڑھتی جائیں وہاں خدا تعالیٰ کو اس کی اعلیٰ صفات کے مطابق اپنی مدد اور تائید کے لئے پکارتے جاؤ۔اس زمانہ میں اس سورۃ کے پڑھنے کی بڑی ضرورت ہے۔لوگوں کو آجکل دین سے بڑی نفرت ہو گئی ہے۔بعض جگہ بہت چھوٹی چھوٹی اور معمولی باتوں سے ابتلاء آ جاتے ہیں۔مثلاً کسی کا جنازہ نہیں پڑھا۔یا کسی نے رشتہ نہیں دیا۔یا فلاں کیوں سیکریٹری بنایا گیا۔اور فلاں پریزیڈینٹ کیوں بنایا گیا۔مجھے حیرت ہی آتی ہے کہ اس زمانہ میں ایمان کی قیمت کیوں اس قدر تھوڑی ہو گئی ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے لکھا ہے کہ اس زمانہ سے اس سورۃ کا بہت تعلق ہے۔چنانچہ تجربہ بتا تا ہے کہ واقعہ میں ہمارے دوستوں کو اس کی بہت ضرورت ہے تا وہ شریر لوگ جو ان کے دلوں میں وسوسے ڈالتے ہیں ان سے محفوظ رہیں۔خناس وہی ہستیاں ہوتی ہیں جو نظر نہیں آتیں یعنی پوشیدہ رہتی ہیں۔کبھی کسی لباس میں اور کبھی کسی لباس میں آکر وسو سے ڈالتی رہتی ہیں اور انسان سمجھتا ہے کہ یہ میری خیر خواہ اور ہمدرد ہیں۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا کہ ایک زمانہ ایسا آئے گا کہ انسان رات کو مؤمن سوئے گا اور صبح کو کافر اُٹھیگا اور اسے پتہ بھی نہیں ہو گا کہ کس طرح اس کا ایمان چلا گیا۔وہ یہی زمانہ ہے اس میں لالچ۔حسد بغض۔ناجائز رعب۔خوف اتنا ترقی کر گیا ہے کہ ایمان کی کچھ بھی قیمت نہیں رہی۔اور وہ اس طرح بیچ دیا جاتا ہے کہ گویا بہت ہی حقیر چیز ہے۔جس قدر جلدی اپنے پاس سے دور ہو۔اتنا ہی اچھا ہے۔اپنے گندوں اور میلوں کو لوگ اتنا جلدی نہیں پھینکتے جتنا ایمان کو پھینکتے ہیں۔اگر ان کو کہا جائے کہ رسم و رواج کے گندوں کو چھوڑ دو تو لڑنے پر تیار ہو جاتے ہیں کہ اس طرح ہماری ناک کٹ جاتی ہے مگر ایمان کو ترک کرنے کے لئے اگر کوئی کہے تو بڑی خوشی سے تیار ہو جاتے ہیں تو یہ زمانہ اس سورۃ کے پڑھنے کا بہت مستحق ہے۔تا کہ خدا تعالیٰ کی ربوبیت مالکیت اور الوہیت کی صفات مدد کریں اور نیچے گرنے والی ہستیوں میں سٹیم بھر جائے تاکہ وہ اوپر چڑھ سکیں یہ خدا تعالیٰ کی مدد کے سوا ہو نہیں سکتا۔اس میں شک نہیں کہ