خطبات محمود (جلد 5)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 259 of 653

خطبات محمود (جلد 5) — Page 259

خطبات محمود جلد (5) ۲۵۹ کے لئے خدا تعالیٰ نے اس سورۃ میں جو میں نے ابھی پڑھی ہے۔علاج بتایا ہے۔فرمایا کہ کچھ لوگ ایسے ہوتے ہیں جو بظاہر محبت کا سلوک کرتے ہیں لیکن چونکہ ان کا تعلق ملائکہ سے نہیں ہوتا۔اس لئے بجائے اس کے کہ کسی کو اوپر لے جانے میں مدد دیں۔اور نیچے گرا دیتے ہیں ان کو انسان دوست سمجھتا ہے لیکن دراصل وہ اس کے دشمن ہوتے ہیں۔فرمایا ان سے بچنے کی ہم تمھیں ایک ترکیب بتاتے ہیں اور وہ یہ کہ قُلْ اَعُوذُ بِرَبِّ النَّاسِ۔خدا سے ہمیشہ ان سے محفوظ رہنے کی دعا مانگو۔اس کو کہو کہ اے خدا! تو رب ہے۔رب کے معنے ہیں پیدا کرنے والا اور پیدا کرنے کے بعد اس کی بار یک در بار یک ضروریات کو پورا کر کے کمال تک پہنچانے والا تو فرمایا تم ایسے خدا سے مدد مانگو جورب ہے اور اسے کہو کہ ہمیں اس سے بڑھ کر اور کیا ضرورت ہوگی کہ ہمیں ایسی خواہشات اور ایسے لوگوں سے تعلق نہ ہو جو ہمیں نیچے ہی نیچے لے جانے والے ہوں۔پس ہم اپنے آپ کو تیرے ہی سپر د کرتے ہیں کہ تو ہمیں اوپر لے جاتو ربوبیت کا واسطہ دے کر دعا ہوئی۔اس سے بڑھ کر مالکیت کا درجہ ہے۔فرمایا پھر اس خدا کو پکارو جو ملك الناس ہے۔لوگوں کا بادشاہ ہے۔بادشاہ بھی یہ پسند نہیں کرتا۔کہ کوئی باغی اس کی رعایا کو تکلیف پہنچائے۔اس لئے فرمایا۔خدا کو ملک کے نام سے اپنی مدد کے لئے پکارو۔کہ اے خدا ہم تیری رعایا ہیں۔کیا اگر ہمیں کوئی دکھ دے۔کوئی تکلیف پہنچائے تو تیری شان بادشاہت کو غیرت نہیں آئے گی۔ضرور آئے گی۔پس ہم کو بچا۔دیکھود نیاوی بادشاہوں کی رعایا کو اگر کوئی بہکائے تو انہیں غیرت آتی ہے اور وہ اسے ہلاک اور تباہ کر دیتے ہیں۔اسی طرح اگر کوئی خدا تعالیٰ کو اپنا آپ سپر د کر دے۔تو کیا وہ اس کے بہکانے والوں کو سزا نہیں دیگا ضرور دے گا۔پس فرمایا کہ تم اپنے آپ کو خدا کے سپرد کر دو اور کہو کہ الہی ! تو ہی ہمارا بادشاہ ہے اور ہم تیری رعایا۔ہمیں ان باغیوں اور سرکشوں سے نجات دے جو تیرے جادہ اطاعت سے ہمیں منحرف کرنا چاہتے ہیں۔مالکیت سے بڑھ کر الوہیت کا تعلق ہے۔ہر ایک بادشاہ اللہ نہیں ہوسکتا۔ایک ہی بادشاہ ایسا ہے جو اللہ ہے۔اور وہ خدا تعالیٰ ہے فرمایا۔الی الناس۔پھر الوہیت کی صفت کو پکارو۔اور کہو خدا یا۔ہم تیرے بندے ہیں اور تو ہمارا معبود۔جب کوئی بادشاہ یہ پسند نہیں کرتا کہ اس کی رعایا کوکوئی ورغلائے تو پھر تو جو معبود ہے کس طرح پسند کر سکتا ہے کہ تیرے بندوں کو کوئی ورغلائے۔پس ہم تیرے ہی حضور عرض کرتے ہیں