خطبات محمود (جلد 5)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 16 of 653

خطبات محمود (جلد 5) — Page 16

خطبات محمود جلد (5) " سواس کے مطابق اس سے سلوک ہوتا ہے۔اگر کوئی ایسا اہل کتاب ہے جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو گالیاں نکالتا ہے یا قرآن شریف کی بے ادبی کرتا ہے تو کبھی کوئی سچا مسلمان یہ پسند نہیں کرے گا کہ اس کی لڑکی اپنے نکاح میں لے لے۔یا اس کے ہاتھ کا پکا ہوا کھانا کھائے۔اس قسم کا سلوک ہر ایک کی حالت کے مطابق ہوگا۔لیکن اسلام نے ایک اصول کے رنگ میں ان میں اور غیر اہل کتاب میں فرق رکھ دیا ہے ایک غیر احمدی اور ایک مسیحی میں بلحاظ اس کے کہ وہ بھی نبیوں کو مانتا ہے اور ایک عیسائی بھی نبیوں کو مانتا ہے کوئی فرق نہیں ہے۔ہاں انبیاء کے افراد کا خیال کریں تو فرق معلوم ہوتا ہے۔یعنی ایک عیسائی آنحضرت صلے اللہ علیہ وسلم کو اور مسیح موعود دونوں کو نہیں مانتا۔اور ایک غیر احمدی صرف حضرت مسیح موعود کو نہیں مانتا۔اس لئے کچھ فرق تو ہے۔لیکن خدا تعالیٰ کے نزدیک کسی گروہ کا نام رکھنا بڑے فرق کی وجہ سے ہوتا ہے۔اور اگر چھوٹے چھوٹے فرقوں پر بھی نام رکھے جائیں تو دنیا کا کوئی کام بھی نہ چلے۔اور اہل دنیا کے لئے یہ ایک بہت ضرر دہ بات ہو اور خدا تعالیٰ کی طرف سے کوئی ضرر دینے والی بات نہیں آتی۔پھر مسلمانوں میں ہی کئی فرقے ہیں لیکن سب مسلمان ہی کہلاتے ہیں۔یہ کوئی نہیں کہتا کہ ان کے نام الگ الگ کیوں نہیں رکھے گئے۔ہم کہتے ہیں کہ اگر اس طرح نام رکھے جاتے تو کام ہی نہ چلتا۔اصل بات یہ ہے کہ بڑے بڑے اختلاف کی وجہ سے نام رکھے جاتے ہیں۔اور اگر اس معترض کو بُرا لگتا ہے کہ کوئی اسے حق سے دور کیوں قرار دیتا ہے تو ہم کہتے ہیں کہ ہم کب چاہتے ہیں کوئی حق سے دور ہو ہم بھی تو یہی چاہتے ہیں کہ سب لوگ حق کو قبول کر لیں۔اور ہم میں مل جائیں۔پس جسے یہ بات بری لگتی ہے اسے چاہیے کہ وہ حق کو قبول کر لے۔پھر اُسے کبھی ہم حق سے دور نہ کہیں گے۔ہمیں کسی کو کافر کہنے کا شوق نہیں۔ہاں اگر کوئی اپنے اعمال سے کافر بنتا ہے تو بنے۔لیکن اگر ہم غیر احمدیوں کے نزدیک جھوٹے ہیں اور کسی کو کافر کہتے ہیں تو اسے برا کیوں لگتا ہے۔دیکھو عیسائی ہمیں کافر کہتے ہیں لیکن ہم ان کے اس کہنے سے نہیں چڑتے۔کیونکہ ہم انہیں سچا نہیں سمجھتے۔پس اگر غیر احمدی ہمارے کا فر کہنے سے چڑتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے کہ وہ ہم کو سچا سمجھتے ہیں۔ہم ان کو کہتے ہیں کہ جب وہی اسلام ہے جو ہمارے پاس ہے۔تو تم اسے قبول کر لو۔پھر ہم تمہیں کا فرنہیں کہیں گے بلکہ اپنا بھائی