خطبات محمود (جلد 5) — Page 15
خطبات محمود جلد (5) ۱۵ ایک ایسی نہیں ہو سکتیں۔اور کوئی دو چیزیں بالکل ایک ہی رنگ کی ایک ہی شکل کی۔ایک ہی قدو قامت کی نہیں ہو سکتیں۔ایک ہی اخلاق اور ایک ہی طبیعت کے دو آدمی نہیں ہو سکتے۔پھر ایک ہی شکل ایک ہی آواز کے دو آدمی نہیں مل سکتے ضرور کچھ نہ کچھ ان میں فرق ہوگا۔پس اگر فرق کے لحاظ سے ہر ایک انسان اور ہر ایک چیز کا نام الگ الگ قرار دیا جا تا تو نہ معلوم کس قدر ان کے نام ہو جاتے جس سے انتظام دنیا میں بہت سی ابتری پھیل جاتی۔پھر کوئی دو کافر اور دو مومن اعمال کے لحاظ سے ایک دوسرے کے بالکل برابر نہیں ہو سکتے۔اس لئے ہر ایک کے لئے الگ الگ نام ہونا چاہیئے تھا۔پھر عیسائیوں یہودیوں اور ہندوؤں میں تو ایک دوسرے سے بڑا ہی فرق ہے۔اس لئے ان میں سے ہر ایک کا بھی علیحدہ نام ہوتا۔پھر اسلام کے فروعات کے لحاظ سے ہر ایک مسلمان میں فرق ہوگا اس لئے ہر ایک کے ساتھ سلوک اور تعلق کے لئے الگ الگ قاعدہ قرآن شریف میں بتایا جاتا۔لیکن اس کے لئے موجودہ قرآن شریف کیا اگر اس سے کروڑ گنا بھی زیادہ ہوتا تو بھی اس میں یہ سب باتیں نہ آسکتیں۔کہ فلاں کے ساتھ فلاں سلوک کیا جاوے اور فلاں کے ساتھ فلاں۔تو یہ کہنا کم نہی کا نتیجہ ہے۔دنیا میں ہی دیکھ لو۔ہر ایک قسم کے لئے ایک حد بندی ہوتی ہے۔اور باوجود اس کے افراد کے اختلاف کے سب کو اسی میں سمجھا جاتا ہے۔مثلاً سکول کے لڑکے ایک ہی امتحان دیتے ہیں۔لیکن ان کے لئے الگ الگ ڈویژن مقرر ہوتے ہیں۔اور پھر ان ڈویژنوں میں پاس ہونے والے لڑکوں میں بھی فرق ہوتا ہے۔مثلاً فرض کر لو کہ تھرڈ ڈویژن میں پاس ہونے والوں کے لئے یہ حد ہے کہ جو ایک سو سے دوسو تک نمبر حاصل کرلے وہ اس ڈویژن میں پاس ہوگا اب جولڑ کے ۱۰۱ یا ۱۰۲ یا ۱۰۳ یا ۱۰۴ اور اسی طرح دوسو تک نمبر لیں گے۔وہ سب تھرڈ ڈویژن میں ہی پاس ہونے والے سمجھے جائیں گے۔نہ کہ ہر ایک کے فرق کے لحاظ سے اس کا الگ ڈویژن مقرر ہوگا ( چونکہ سوال کرنے والا ایک طالب علم ہے اس لئے میں نے یہی مثال دی ہے ) اسی طرح الہی قانون ہے۔خدا تعالیٰ نے تمام انسانوں کا نام انسان رکھا ہے۔حالانکہ ان میں ایک دوسرے سے ضرور کچھ نہ کچھ فرق ہوتا ہے۔ہاں کچھ فرق بڑے ہوتے ہیں اور کچھ چھوٹے۔خدا تعالیٰ نے بڑے فرقوں کے لحاظ سے الگ الگ نام رکھ دیا ہے پس اس لحاظ سے سب اہل کتاب کا ایک ہی نام ہے۔باقی رہی ہر ایک کی حالت۔