خطبات محمود (جلد 5)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 244 of 653

خطبات محمود (جلد 5) — Page 244

خطبات محمود جلد (5) ۲۴۴ اور اچھے نسخے مٹتے گئے اور آج نوبت یہاں تک پہنچ گئی ہے۔بعض دفعہ ایسا ہوتا ہے کہ ایک خاندان ترقی کر لیتا ہے لیکن اس کے بعد میں آنے والے افراد اس قابل نہیں ہوتے کہ کاروبار کو سنبھال سکیں۔لیکن چونکہ اس خاندان کی وہ باتیں جن سے اس نے ترقی کی ہوتی ہے۔انہی تک محدود ہوتی ہیں۔اس لئے ان کے تباہ ہونے کے ساتھ ہی وہ بھی تباہ ہو جاتی ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کسی حجام کی نسبت فرماتے تھے کہ اس کو ایک ایسا اچھا مرہم بنانا آتا تھا کہ خواہ کیسا ہی گندہ اور بگڑا ہو از زخم ہو۔اس سے اچھا ہوجاتا تھا لیکن وہ اس مرہم کا بنانا کسی اور کو نہ بتاتا تھا۔حتی کہ اپنے بیٹوں کو بھی نہ بتاتا تھا۔جب وہ مرنے لگا تو اس کے بیٹوں نے کہا اب تو آپ ہم سے جدا ہونے لگے ہیں اب ہی وہ مرہم بنا نا بتا دیں وہ کہنے لگا میں تم کو بتا تو دیتا لیکن ابھی مجھے امید ہے کہ میری زندگی باقی ہے اگر میں اچھا ہو گیا تو پھر کیا ہوگا۔وہ اسی مرض میں مر گیا۔اور مرہم کے متعلق نہ ہی بتا یا۔اسی طرح ہزاروں علوم ایسے تھے کہ جو لوگوں کی نادانی اور جہالت کی وجہ سے مٹ گئے۔ان کے جاننے والوں نے انہیں اپنے سینے کی قبر میں ایسا دفن کیا کہ وہ پھر نہ نکل سکے۔اور اس طرح گھٹتے گھٹتے بالکل نا پید ہو گئے۔دیکھ لیجئے۔آجکل طب ایسی گر گئی ہے کہ کوئی پوچھتا تک نہیں۔اور ڈاکٹروں کی موجودگی میں طبیبوں کی طرف کوئی توجہ بھی نہیں کرتا۔ڈاکٹروں نے کوئی نئی طب نہیں بنائی۔بلکہ یہ وہی پرانی طب ہے۔اور یورپ نے مسلمانوں سے ہی سیکھی ہے۔لیکن جب ان کے پاس گئی اور انہوں نے اس پر عملدرآمد اور تجربہ کرنا شروع کر دیا اور جو نئی بات کسی کو معلوم ہوئی۔اس کی خوب شہرت کی اور اچھی طرح پھیلا دی تو اس طرح ایک کی بات دوسرے کو۔دوسرے کی تیسرے کو۔تیسرے کی چوتھے کو پہنچتی گئی۔اور ایک نے دوسرے کی مدد سے اور دوسرے نے تیسرے کی مدد سے اور تیسرے نے چوتھے کی مدد سے ترقی کرنا شروع کر دی۔اور ہوتے ہوتے آج یہ حالت ہوگئی کہ جس طرح ایک گٹھلی اور آم میں بہت بڑا فرق ہوتا ہے۔اور جس طرح ایک خوبصورت پھول اور اس کے بیج میں بہت بڑا فرق ہوتا ہے۔حالانکہ پھول اسی بیج سے نکلا ہوتا ہے۔مگر دونوں کی حالت میں اتنا بڑا