خطبات محمود (جلد 5)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 245 of 653

خطبات محمود (جلد 5) — Page 245

خطبات محمود جلد (5) ۲۴۵ فرق ہوتا ہے کہ ایک کا دوسرے سے مقابلہ نہیں ہوسکتا۔اگر بیج کسی کے ہاتھ کو لگ جائے تو جھاڑ کر پھینک دے گا کہ کیا لگ گیا ہے لیکن پھول کو بڑے شوق اور پیار سے بار بار ناک کے ساتھ لگائے گا۔اسی طرح گو ڈاکٹری طب سے ہی نکلی ہے۔مگر بڑھتے بڑھتے ایک عظیم الشان درخت ہو گئی ہے کہ دونوں میں کوئی نسبت نہیں رہی۔اہل یورپ نے چونکہ اس کے بڑھانے میں کوئی بخل نہیں کیا۔اگر ایک کا علم ختم ہو گیا تو آگے دوسرے نے شروع کر دیا۔دوسرے کا ختم ہو گیا تو تیسرے نے شروع کر دیا۔تیسرے کا ختم ہو گیا تو چوتھے نے شروع کر دیا۔پہلے تو یہ ہوتا تھا کہ اگر ایک بات ایجاد کر لیتا تو دوسرے کو نہ بتا تا۔اس لئے دوسرے کو اگر وہی بات ایجاد کرنی ہوتی تو اسے بھی اتنی ہی محنت کرنی پڑتی جتنی کہ پہلے نے کی ہوتی۔لیکن اب یہ ہوا کہ ایک نے ایک دروازہ کھول دیا اور وہ تھک کر بیٹھ گیا۔تو دوسرا کھڑا ہو گیا۔اور اس نے دوسرا دروازہ کھول دیا۔تیسرے نے اس سے اگلا کھول دیا۔اس طرح آہستہ آہستہ وہ اس حد تک پہنچ گئے کہ بہت بڑا فرق ہو گیا۔دہلی میں ایک طبی جلسہ پر وائسرائے نے کہہ دیا تھا کہ دیسی طب اور ڈاکٹری در اصل ایک ہی ہے۔لیکن یہ سنکر ڈاکٹروں نے اس پر بڑا شور مچایا کہ ہماری ہتک کی گئی ہے کیونکہ یہ غلط ہے کہ دیسی طب اور ڈاکٹری ایک ہی ہے۔اگر چہ ان کا شور مچانا ایسا ہی تھا جیسے کوئی محسن کش جب کوئی عہدہ پالیتا ہے تو ماں باپ سے ملنا بھی عار سمجھتا ہے۔ایک مجسٹریٹ کے متعلق کہتے ہیں کہ وہ بہت غریب خاندان سے تھا۔اس کا باپ اس سے ملنے کے لئے آیا تو بے دھڑک اس کے پاس کرسی پر جا بیٹھا۔اہلکاروں نے پوچھا۔یہ کون ہے تو اس نے کہا یہ ہمارا خدمت گار ہے۔تو بعض کم عقل جب ترقی کر جاتے ہیں تو اپنے اصل منبع اور مخرج کی طرف منسوب ہونا بھی ہتک سمجھتے ہیں۔اسی طرح ڈاکٹری والے بھی چونکہ بہت ترقی کر گئے ہیں اور طب والے بہت گر گئے ہیں۔اس لئے وہ ان کی طرف منسوب ہونا ہتک سمجھتے ہیں۔چونکہ طب والوں نے اس علم کو پھیلا یا نہیں اس لئے اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ کم ہو گیا۔اور ڈاکٹری والوں نے چونکہ اسے خوب پھیلا یا۔اس لئے وہ بہت ترقی کر گیا۔صحابہ کرام کے پاس کوئی چیز ایسی نہ تھی کہ جو انہوں نے لچھپا رکھی ہو۔سوائے