خطبات محمود (جلد 5)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 237 of 653

خطبات محمود (جلد 5) — Page 237

خطبات محمود جلد (5) ۲۳۷ وہی اس کو چلاتا ہے۔ہاں ہمیں یہ دیکھ کر خوشی ہوتی ہے کہ ایک انسان کا انجام اچھا ہو گیا اور اس طرح ذکر کرنے سے لوگوں میں اس کے متعلق دعا کرنے کی تحریک ہوتی ہے۔اسی رنگ میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی اپنے صحابہ کا ذکر فرمایا تھا۔اور اسی رنگ میں حضرت مسیح موعود نے ذکر کیا۔اور اسی رنگ میں میں ذکر کرتا ہوں۔میں نے قاضی عبد الحق صاحب کو دیکھا ہے آپ ترجمۃ القرآن کا کام کرتے تھے ان کی محنت میرے لئے قابل حیرت ہوتی تھی۔میں بڑا تیز لکھنے والا ہوں۔اور خدا کے فضل سے بہت تیز لکھ سکتا ہوں۔اور بھی تیز لکھنے والے ہوں گے لیکن میں نے کسی کو نہیں دیکھا کہ مجھ سے زیادہ تیز لکھ سکتا ہو۔میں مضمون کے سوسواسو صفحے ایک دن میں لکھ سکتا ہوں۔لیکن میں نے دیکھا ہے کہ اگر چہ ترجمہ کرنے کا کام مشکل ہوتا ہے۔تاہم اگر میں تھوڑی دیر کے لئے بھی ترجمۃ القرآن کے کام کو چھوڑ کر کسی اور کام میں لگ جاتا تو یہ نہیں ہوتا تھا کہ قاضی صاحب مجھ سے پیچھے رہ جاتے۔میں جب یہ سمجھتا کہ اب ان کے پاس کافی مضمون ہو گیا ہے اور کسی اور کام میں مصروف ہوتا اور ان سے ترجمہ کے متعلق پوچھتا تو وہ یہی کہتے اور مضمون دیجئے۔پہلا ختم ہو چکا ہے۔اور پھر اس کام کے ساتھ وہ مدرسہ میں بھی پڑھاتے۔پھر میں رات کے وقت مقابلہ کرنے کے لئے ان سے ترجمہ سنتا تو گیارہ اور بارہ بجے رات تک سناتے رہتے۔دس بجے تک تو ضرور ہی سناتے۔اس کے بعد وہ اپنے مکان پر جاتے تھے۔گویا عصر سے لے کر کم از کم رات کے دس بجے تک میرے پاس رہتے اس کے بعد جا کر ترجمہ کرتے اور صبح مدرسہ میں پڑھاتے۔پھر یہ کام ایک دن کا نہ تھا بلکہ ایک لمبے عرصہ تک ہوتا رہا۔لیکن وہ اس سے ذرا نہ گھبرائے اور جس طرح ایک چیز کی حرص ہوتی ہے اس طرح مجھ سے کام مانگ لیتے اور کہتے کہ فلاں کام بھی میرے سپر دکر دیا جائے۔ایسے لوگ خدا تعالیٰ کے انعام پانے سے خالی نہیں رہتے۔وہ لوگ جو ان کے کام سے واقف ہوتے ہیں ان کے منہ سے ان کے لئے بے اختیار دعائیں نکلتی ہیں۔چنانچہ قاضی صاحب کی بیماری میں میں نے دیکھا ہے یہاں کے لوگ بڑے فکر سے ان کے لئے دعائیں کرتے تھے۔یہ ان کے اس کام کا نتیجہ تھا جو انہوں نے خدا تعالیٰ کے لئے کیا۔میں نے بھی ان کے لئے دعائیں