خطبات محمود (جلد 5)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 184 of 653

خطبات محمود (جلد 5) — Page 184

خطبات محمود جلد (5) ۱۸۴ والے پر اللہ تعالیٰ کا غضب بھڑک اُٹھتا ہے جو شخص ناامید ہوتا ہے وہ سوچے کہ کونسی کمی ہے۔جو اس کے لئے خدا نے پوری نہیں کی۔کیسے کیسے فضل اور کیسے کیسے انعام ہوئے اور ہورہے ہیں۔پھر آئندہ نا امید ہونے کی کیا وجہ ہے۔پس دعا مانگنے کا ایک طریق تو یہ ہے کہ انسان اپنے تمام اعمال کو شریعت کے مطابق کرے۔کیوں؟ اس لئے کہ جس طرح ماں باپ بھی اسی بچے کی باتیں مانتے ہیں جو ان کی مانے۔اور پوری پوری فرمانبرداری کرے۔جو ان کی باتوں کی پرواہ نہیں کرتا اس کی باتوں کی وہ بھی نہیں کرتے۔پھر استاد اسی لڑکے کی بات مانتا ہے جو محنتی اور اچھی طرح سبق یاد کرنے والا ہو۔اسی طرح خدا تعالیٰ بھی اپنے فرمانبردار بندوں کی نافرمان بندوں سے زیادہ مانتا ہے۔پس تم لوگ اول تو اپنے اعمال کو شریعت کے مطابق بناؤ اور دوسرے یہ کہ خدا کے فضل اور رحمت سے کبھی مایوس نہ ہو۔بلکہ دعا کرتے وقت یہ پختہ یقین رکھو کہ خدا تعالیٰ تمہاری دعا ضرور سُنے گا۔اور ضرور سنے گا اور اس وقت تک دعا کرتے رہو کہ خدا کی طرف سے یہ حکم نہ آ جائے کہ اب یہ دعا مت مانگو۔لیکن جب تک خدا تعالیٰ یہ کسی کو نہیں کہتا۔بلکہ یہ کہتا ہے کہ میں تمہاری دعا قبول نہیں کرتا۔اس وقت تک ہرگز ہرگز باز نہ رہو۔کیونکہ خدا تعالیٰ کا یہ کہنا کہ میں تمہاری دعا قبول نہیں کرتا۔گو یا اشارہ یہ کہنا ہے کہ اے میرے بندے تو مانگتا جا۔میں گو اس وقت قبول نہیں کرتا لیکن کسی وقت کر ضرور لوں گا۔ورنہ اگر اس کہنے سے یہ مراد نہ ہوتی بلکہ دعا کرنے سے روکنا ہوتا تو خدا تعالیٰ یہ کہ سکتا تھا کہ یہ دعامت مانگ نہ یہ کہ میں نہیں مانوں گا۔پس جب تک کان میں یہ الفاظ نہ پڑیں کہ یہ دعا مت مانگ“ اس کے مانگنے کی میں تمھیں اجازت نہیں دیتا۔اس وقت تک نہیں رکنا چاہیئے۔اس طرح تو ان کو مطلع کیا جاتا ہے جنہیں الہام اور کشف کا رتبہ حاصل ہوتا ہے۔اور جنہیں یہ نہ ہو ان کو اس بات سے متنفر کر دیا جاتا ہے جس کے متعلق وہ دعا کرتے ہیں۔جن پر الہام اور وحی کا دروازہ کھلا ہوتا ہے ان کو تو خدا کہہ دیتا ہے کہ ایسا مت کرو۔لیکن جن کے لئے نہیں ہوتا ان کے دل میں نفرت پیدا کر دی جاتی ہے۔اس لئے وہ خود ہی اس دعا کے مانگنے سے باز رہ جاتے ہیں اس کا نام مایوسی نہیں بلکہ ان کا یہ تو یقین ہوتا ہے کہ خدا تعالیٰ ہمارا فلاں مقصد