خطبات محمود (جلد 5)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 185 of 653

خطبات محمود (جلد 5) — Page 185

خطبات محمود جلد (5) ۱۸۵ پورا کر سکتا اور ہمیں فلاں چیز دے سکتا ہے لیکن ہم خود ہی اسے نہیں لینا چاہتے پس اگر کسی کے دل میں دعا مانگتے ہوئے اس چیز سے نفرت پیدا ہو جائے تو اسے بھی دعا کرنا چھوڑ دینا چاہئیے۔ورنہ نہیں رکنا چاہئیے۔خواہ قبولیت میں کتنا ہی عرصہ کیوں نہ لگ جائے۔بعض دفعہ دعا کرتے کرتے کچھ ایسے سامان پیدا ہو جاتے ہیں کہ اگر دعا قبول ہو جائے تو اس سے شریعت کا کوئی حکم ٹوٹتا ہے۔اس سے بھی سمجھ لینا چاہئیے کہ وہ وقت آگیا ہے کہ اس دعا سے باز رہنا چاہئیے خدا تعالیٰ کے دعا کو قبول کرنے سے انکار کرنے کا یہ بھی ایک طریق ہے۔یعنی بجائے قول کے خدا تعالیٰ کا فعل سامنے آجاتا ہے۔اس لئے اس کے کرنے سے رک جانا چاہئیے تو دعا کرنے سے رکنے کے تین پہلو ہیں۔اول یہ کہ الہام یا کشف ہو جائے کہ یہ دعا مت کرو۔یا ہماری طرف سے اس کے کرنے کی اجازت نہیں ہے۔دوم یہ کہ جس مقصد کے حصول کے لئے دعا کی جائے اس سے نفرت پیدا ہو جائے۔سوم یہ کہ جس بات کے لئے دعا کی جائے وہ شریعت کے محذورات کے ساتھ وابستہ ہو جائے۔اگر ان تینوں حالتوں میں سے کوئی حالت بھی نہ ہو تو دعا کرنے سے کبھی نہیں رکنا چاہیئے۔اور کبھی مایوس نہیں ہونا چاہئے۔بلکہ یہی سمجھنا چاہئے کہ خدا تعالیٰ نے مجھے یہ جو مانگنے کا موقعہ دیا ہوا ہے اس میں مانگتا ہی جاؤنگا تا کہ یہ ضائع نہ جائے۔جب کوئی اسی طرح کرے گا تو ضرور ہے کہ خدا تعالیٰ اس کی دعا یا تو قبول کر لے گا۔یا ان تینوں طریقوں میں سے کسی سے اُسے روک دیگا ( ان تینوں کے علاوہ ابھی تک اور کوئی روک میری سمجھ میں نہیں آئی ) لیکن اگر روک بھی دے تو کیا دعا مانگنے کا یہ تھوڑا فائدہ اور نفع ہے کہ خدا وند تعالیٰ کے ساتھ مکالمہ ومخاطبہ کا شرف حاصل ہو گیا۔اور خدا تعالیٰ نے اُسے اس قابل سمجھا کہ مخاطب کرے۔آج میں دعا کے قبول ہونے کے صرف یہی دو طریق بتاتا ہوں۔اور بھی ہیں مگر وقت تنگ ہو رہا ہے۔اگر خدا تعالیٰ نے توفیق دی تو اگلے جمعہ میں ان کو انشاء اللہ بیان کر دوں گا۔الفضل ۲۹ ؍جولائی ۱۹۱۶ء)